المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. ذِكْرُ مَبْلَغِ الْعَرَقِ مِنِ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن ابنِ آدم کے پسینے کی مقدار کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9012
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن عيسي الطَّرَسُوسي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن سعيد بن عُمير (3) قال: جلستُ إلى ابن عمر وأبي سعيد، فقال أحدهما لصاحبه: إني سمعت النبيَّ ﷺ يَذكُر مَبْلَغَ العَرقِ من ابن آدم فقال:" [إلى] شحمةِ أُذنيه"، وقال الآخر:"يُلجِمُه العرقُ"، وأشار ابن عمر فخَطَّ من (1) شحمة أُذنه بالسَّبّابة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8797 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8797 - صحيح
سعید بن عمیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان کے پسینے کی حد کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کانوں کی لو تک (پہنچ جائے گا)۔“ اور دوسرے نے کہا: ”پسینہ اسے لگام دے دے گا۔“ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اشارہ کیا اور اپنی شہادت کی انگلی سے اپنے کان کی لو سے خط کھینچا (یعنی نشان بنا کر واضح کیا)۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9012]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9012]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سعيد بن عمير» [ترقيم الرساله 9012] [ترقيم الشركة 8903] [ترقيم العلميه 8797]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9013
أخبرنا أبو سهل أحمد بن عبد الله بن زياد القَطّان، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا أبو علي عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عِكرِمة بن عمّار، حدثنا إياس بن سَلَمة بن الأكوَع، حدثني أَبي قال: عُدْنا مع رسول الله ﷺ رجلًا موعوكًا، فوَضَعتُ يدي عليه فقلت: تاللهِ [ما رأيتُ] (3) كاليوم رجلًا أشدَّ حرًّا منه، فقال رسول الله ﷺ:"ألا أخبِرُكم بأشدَّ حرًّا منه يومَ القيامة، هاذَينِكَ الرجلينِ الراكبَينِ المُقفِّيِّين"؛ لرجلين حينئذٍ من أصحابه (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8798 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8798 - على شرط مسلم
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بخار میں مبتلا شخص کی عیادت کے لیے گئے، میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو عرض کی: اللہ کی قسم! میں نے آج کی طرح اس سے زیادہ گرم (بخار والا) کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں جو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ شدید گرمی (عذاب) میں ہوگا؟ وہ پیٹھ پھیر کر جانے والے یہ دو سوار ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس وقت آپ کے ساتھیوں میں سے دو آدمیوں سے تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9013]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9013]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي» [ترقيم الرساله 9013] [ترقيم الشركة 8904] [ترقيم العلميه 8798]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9014
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث وابن لهيعة [عن يزيد بن أبي حَبيب] (5) عن سِنان بن سعد الكِنْدي، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله إذا أراد بعبدٍ خيرًا، عجَّلَ له العقوبةَ في الدنيا، وإذا أراد بعبدٍ شرًا، أَمسكَ عليه بذَنْبِه حتى يُوافيَه يومَ القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8799 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8799 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی جلد سزا دے دیتا ہے، اور جب وہ کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا کو روکے رکھتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9014]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل سنان بن سعد الكندي» [ترقيم الرساله 9014] [ترقيم الشركة 8905] [ترقيم العلميه 8799]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره