🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. ذِكْرُ مَبْلَغِ الْعَرَقِ مِنِ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن ابنِ آدم کے پسینے کی مقدار کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9011
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمْرَوَيهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (1) ، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر، أنه كان يقول: أَطَلَعَت الحمراءُ بعدُ؟ فإذا رآها قال: لا مَرحبًا، ثم قال: إنَّ مَلكين من الملائكة، هَارُوتَ وَمَارُوتَ، سَأَلَا اللهَ تعالى أن يَهبِطا إلى الأرض، فأهبطا إلى الأرض، فكانا يَقضِيان بين الناس، فإذا أمسيَا تكلَّما بكلماتٍ وعَرَجا بها إلى السماء، فقُيِّضَ لهما بامرأةٍ من أحسن الناس، وأُلقيت عليهما الشَّهوةُ، فجعلا يؤخِّرانها، وأُلقيت في أنفُسِهما، فلم يزالا يفعلانِ حتى وَعَدَتهما ميعادًا، فأتتهما للميعادِ فقالت: علِّماني الكلمةَ التي تَعرُجانِ بها، فعلَّماها الكلمة، فتكلَّمت بها، فعَرَجَت بها إلى السماء، فمُسِخَت فجُعِلَت كما ترونَ، فلما أَمسَيًا تكلّما بالكلمة التي كانا يَعرُجانِ بها إلى السماء، فلم يَعرُجا، فبُعِث إليهما: إن شئتُما فعذابُ الآخرة، وإن شئتُما فعذاب الدنيا إلى أن تقومَ الساعةُ، على أنْ تلتقيانِ (2) الله تعالى، فإن شاء عذَّبَكما، وإن شاء رَحِمَكما، فنَظَرَ أحدُهما إلى صاحبه، فقال أحدُهما لصاحبه: بل نختارُ عذابَ الدنيا ألفَ ألفِ ضعفٍ؛ فهما يُعذِّبَانِ إلى أن تقومَ الساعة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وترك حديث يحيى بن سَلَمة عن أبيه من المُحالات التي يردُّها العقلُ! فإنه لا خلاف أنه من أهل الصَّنعة (2) ، فلا يُنكَر لأبيه أن يَخُصَّه بأحاديث يتفرَّد بها عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8796 - قال النسائي متروك
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کرتے تھے اس کے بعد سرخی نمودار ہو گی، جب کوئی اس کو دیکھے تو اس کا خوشدلی سے استقبال نہ کرے، پھر فرمایا: دو فرشتوں ہاروت اور ماروت نے اللہ تعالیٰ سے مطالبہ كیا کہ وہ ان کو زمین پر اتار دے، ان کو زمین پر اتار دیا گیا، یہ لوگوں کے مابین فیصلے کیا کرتے تھے، جب شام ہوتی تو کچھ کلمات پڑھتے اور ان کی برکت سے وہ آسمان میں چڑھ جاتے، انہوں نے ایک انتہائی خوبصورت عورت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا، اس عورت نے ان کو برائی کی دعوت دی، لیکن فرشتے اس کو ٹالتے رہے، لیکن ان کے دل میں اس کی یاد رہنے لگی، یہ دونوں اس سے رابطے میں رہے حتی کہ ایک دن اس نے ان سے وقت طے کر لیا اور پھر مقررہ وقت پر ان کے پاس آ گئی، اس نے کہا: پہلے مجھے تم وہ کلمات سکھاؤ جو پڑھ کر تم آسمانوں پر جاتے ہو، انہوں نے اس عورت کو وہ کلمات سکھا دیئے، اس نے فوراً وہ کلمات پڑھے اور آسمانوں کی جانب چڑھ گئی، لیکن اس کو مسخ کر دیا گیا، اور پھر اس کو یوں بنا دیا گیا جیسا کہ تم اس کو دیکھتے ہو، جب شام ہوئی، انہوں نے وہ کلمات پڑھے جن کو پڑھ کر وہ آسمانوں پر چڑھا کرتے تھے لیکن اس دن وہ اوپر کی جانب نہ چڑھ سکے، ان کی جانب پیغام بھیجا گیا، اگر تم چاہو تو تمہیں آخرت کا عذاب دیا جائے اور اگر چاہو تو قیامت تک تمہیں دنیا کا عذاب دیا جائے، پھر جب قیامت میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری ملاقات ہو تو اس وقت اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں عذاب دے اور چاہے تو تم پر رحمت کرے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کی جانب دیکھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم دنیا ہی میں سزا کاٹیں گے چاہے وہ ہزار گنا زیادہ کیوں نہ ہو، چنانچہ ان کو قیامت تک عذاب ہوتا رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یحیی بن سلمہ کی ان کے والد سے روایت کردہ وہ حدیث چھوڑ دی گئی ہے کیونکہ یہ محالات میں سے ہے، عقل اس کو قبول نہیں کرتی کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ اہل فن میں سے ہیں، اس لئے کچھ بعید نہیں ہے کہ ان کے والد کی کچھ مخصوص احادیث ہوں جن کی روایت کرنے میں وہ منفرد ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9011]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9012
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن عيسي الطَّرَسُوسي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن سعيد بن عُمير (3) قال: جلستُ إلى ابن عمر وأبي سعيد، فقال أحدهما لصاحبه: إني سمعت النبيَّ ﷺ يَذكُر مَبْلَغَ العَرقِ من ابن آدم فقال:" [إلى] شحمةِ أُذنيه"، وقال الآخر:"يُلجِمُه العرقُ"، وأشار ابن عمر فخَطَّ من (1) شحمة أُذنه بالسَّبّابة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8797 - صحيح
سیدنا سعید بن جبیر فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن انسان کے پسینے کی انتہا بیان کرتے ہوئے سنا ہے، ایک نے کہا: اس کے کانوں کی لو تک ہو گا، اور دوسرے نے کہا: وہ پسینے میں ڈوبی ہو گی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کہتے ہوئے اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ کان کی لو کے درمیان خط کھینچا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9012]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9013
أخبرنا أبو سهل أحمد بن عبد الله بن زياد القَطّان، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا أبو علي عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عِكرِمة بن عمّار، حدثنا إياس بن سَلَمة بن الأكوَع، حدثني أَبي قال: عُدْنا مع رسول الله ﷺ رجلًا موعوكًا، فوَضَعتُ يدي عليه فقلت: تاللهِ [ما رأيتُ] (3) كاليوم رجلًا أشدَّ حرًّا منه، فقال رسول الله ﷺ:"ألا أخبِرُكم بأشدَّ حرًّا منه يومَ القيامة، هاذَينِكَ الرجلينِ الراكبَينِ المُقفِّيِّين"؛ لرجلين حينئذٍ من أصحابه (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8798 - على شرط مسلم
سیدنا ایاس بن سلمہ بن الاکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک بیمار کی عیادت کے لئے گئے، میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج سے پہلے اتنا زیادہ بخار کبھی کسی کو نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس کی خبر نہ دوں جو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ گرم ہوں گے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت دو آدمی کھڑے تھے ان کو مراد لیتے ہوئے آپ نے فرمایا)، یہ دو سوار آدمی جو منہ پھیرے کھڑے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9013]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں