المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. ذكر مبلغ العرق من ابن آدم يوم القيامة
قیامت کے دن ابنِ آدم کے پسینے کی مقدار کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9013
أخبرنا أبو سهل أحمد بن عبد الله بن زياد القَطّان، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا أبو علي عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عِكرِمة بن عمّار، حدثنا إياس بن سَلَمة بن الأكوَع، حدثني أَبي قال: عُدْنا مع رسول الله ﷺ رجلًا موعوكًا، فوَضَعتُ يدي عليه فقلت: تاللهِ [ما رأيتُ] (3) كاليوم رجلًا أشدَّ حرًّا منه، فقال رسول الله ﷺ:"ألا أخبِرُكم بأشدَّ حرًّا منه يومَ القيامة، هاذَينِكَ الرجلينِ الراكبَينِ المُقفِّيِّين"؛ لرجلين حينئذٍ من أصحابه (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8798 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8798 - على شرط مسلم
سیدنا ایاس بن سلمہ بن الاکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک بیمار کی عیادت کے لئے گئے، میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج سے پہلے اتنا زیادہ بخار کبھی کسی کو نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس کی خبر نہ دوں جو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ گرم ہوں گے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت دو آدمی کھڑے تھے ان کو مراد لیتے ہوئے آپ نے فرمایا)، یہ دو سوار آدمی جو منہ پھیرے کھڑے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 9013]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 9013 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) هذه الزيادة من مصادر التخريج وليست في النسخ الخطية.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) یہ اضافہ تخریج کے مصادر سے لیا گیا ہے اور یہ قلمی نسخوں میں موجود نہیں ہے۔
(4) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه مسلم (2783) من طريق النضر بن محمد اليمامي، عن عكرمة بن عمار، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام مسلم (2783) نے نضر بن محمد الیمامی کے طریق سے، عکرمہ بن عمار سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
المقفيَين: أي: المنصرفين الموليين أقفيتهما.
📝 نوٹ / توضیح: "الْمُقْفِيَيْنِ" کا مطلب ہے: پیٹھ پھیر کر واپس لوٹنے والے۔
قوله: "من أصحابه" سمّاهما هكذا لإظهارهما الإسلام والصحبة، لا أنهما ممَّن نالته فضيلة الصحبة. قاله النووي في "شرح مسلم".
📝 نوٹ / توضیح: قول: "اپنے اصحاب میں سے"؛ آپ ﷺ نے ان دونوں کو یہ نام اس لیے دیا کیونکہ وہ بظاہر اسلام اور صحبت کا اظہار کرتے تھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں (حقیقی) صحبت کی فضیلت نصیب ہوئی۔ یہ بات امام نووی نے "شرح مسلم" میں فرمائی ہے۔