🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. صلى رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - على بساط
رسولُ اللہ ﷺ نے بساط پر نماز ادا فرمائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 964
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان بن الحارث الواسطي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا زَمْعة بن صالح، عن سَلَمة بن وَهْرام، عن عِكْرمة عن ابن عباس: أنه صلَّى على بِسَاط ثم قال: صلَّى رسول الله ﷺ على بِسَاط (3) .
هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعِكْرمة، واحتجَّ مسلم بزَمْعة، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک قالین پر نماز پڑھی اور فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قالین پر نماز پڑھی ہے۔"
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 964]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 964 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح، وأما سلمة بن وهرام فمختلف ¤ ¤ فيه، وقال أحمد: روى عنه زمعة أحاديث مناكير أخشى أن يكون حديثه ضعيفًا.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ "صحیح لغیرہ" ہے، مگر زمعہ بن صالح کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: سلمہ بن وہرام پر اختلاف ہے اور امام احمد نے کہا کہ زمعہ ان سے منکر روایات بیان کرتا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (2061) و 4/ (2472) من طريقين عن زمعة بن صالح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2061/3، 2472/4) نے زمعہ بن صالح کے دو طریقوں سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (2061)، وابن ماجه (1030) من طريقين عن زمعة بن صالح، عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس. فهذا الخلاف اضطراب من زمعة.
⚠️ سندی اختلاف: زمعہ بن صالح نے اسے ایک بار عمرو بن دینار عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا اور ایک بار سلمہ بن وہرام کی سند سے، یہ ان کا اضطراب ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 4/ (2426)، والترمذي (331) وصحَّحه، وابن حبان (2310) من طريق سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: كان النبي ﷺ يصلِّي على الخُمْرة. وهذا إسناد صالح في الاعتبار. والخُمرة والبساط كلاهما نوع من الحصير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (2426/4)، ترمذی (331) اور ابن حبان (2310) نے سماک بن حرب عن عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا ہے کہ "آپ ﷺ چھوٹی چٹائی (خمرہ) پر نماز پڑھتے تھے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند قابلِ اعتبار ہے۔
ويشهد لهذا الحديث ما تقدَّم ذكرُه عند الحديث السابق من حديث ميمونة وأنس وأبي سعيد، فيصحُّ.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت میمونہ، انس اور ابوسعید کی سابقہ احادیث اس کی شاہد ہیں، لہٰذا یہ صحیح ثابت ہوتی ہے۔