🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. صلى رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - على بساط
رسولُ اللہ ﷺ نے بساط پر نماز ادا فرمائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 965
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عِيَاض بن عبد الله القُرشي، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا صلَّى أحدُكم فليَلبَسْ نَعلَيهِ أو ليَجعَلْهما بين رِجلَيه، ولا يُؤْذي بهما غيرَه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 952 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے پہن کر پڑھے یا انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھ لے، ان کے ذریعے کسی دوسرے کو تکلیف نہ دے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 965]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 965 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لِين من أجل عياض بن عبد الله القرشي، وهو مع لِينه يُعتبَر به في المتابعات والشواهد كما في هذا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے اور عیاض بن عبداللہ القرشی کی وجہ سے سند میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے، مگر متابعات میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2183) و (2187) من طريقين عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2183، 2187) نے ابن وہب کے دو طریقوں سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن ماجه (1432) من طريق عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة. وعبد الله هذا متروك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم کے ساتھ ابن ماجہ (1432) نے عبداللہ بن سعید بن ابی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: یہ عبداللہ "متروک" (حدیث میں ناقابلِ قبول) ہے۔
وللحديث طريقان آخران يصح بهما، وهما الآتيان عند المصنف برقم (967) و (970).
📌 اہم نکتہ: اس حدیث کے دو دیگر طرق موجود ہیں جن سے یہ صحیح ثابت ہو جاتی ہے، اور وہ مصنف کے ہاں آگے نمبر (967) اور (970) پر آئیں گے۔