🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. هل للإسلام من منتهى
کیا اسلام کی کوئی حد ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 97
فأخبرَناه القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، عن مَعمَر، عن الزُّهري، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن كُرْز بن علقمة قال: قال أعرابيٌّ: يا رسول الله، هل للإسلام من مُنتهًى؟ فقال:"نَعَم، أيُّما أهلِ بيتٍ من العرب والعَجَم أراد اللهُ بهم خيرًا، أدخلَ عليهم الإسلامَ، ثم تقعُ الفتنُ كأنها الظُّلَلُ" (1) .
هذا حديث صحيح وليس له عِلَّة، ولم يُخرجاه لتفرُّد عروةَ بالرواية عن كُرْز بن علقمة (2) ، وكُرْز بن علقمة صحابيٌّ مُخرَّج حديثُه في مسانيد الأئمة. سمعتُ عليَّ بن عمر الحافظ يقول: مما يُلزَم مسلمٌ والبخاريُّ إخراجَه حديثُ كُرز بن علقمة: هل للإسلام مُنتهًى، فقد رواه عروةُ بن الزُّبير، ورواه الزهري وعبد الواحد بن قيس عنه (3) . قال الحاكم: والدليل الواضح على ما ذكره أبو الحسن أنهما جميعًا قد اتَّفقا (4) على حديث عِتْبان بن مالك الأنصاري الذي صلَّى النبيُّ ﷺ في بيته، وليس له راوٍ غيرُ محمود بن الرَّبيع.
سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، عرب یا عجم کا جو بھی گھرانہ ایسا ہو جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اس میں اسلام داخل کر دیتا ہے، پھر (اس کے بعد) ایسے فتنے واقع ہوں گے جیسے بادلوں کے سائے ہوتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں، شیخین نے اسے صرف اس لیے نہیں لیا کیونکہ کرز بن علقمہ سے صرف عروہ راوی ہیں، حالانکہ کرز صحابی ہیں اور ائمہ کی مسانید میں ان کی حدیث موجود ہے۔ میں نے علی بن عمر حافظ (امام دارقطنی) کو سنا کہ یہ حدیث بخاری و مسلم پر لازم تھی، کیونکہ ان دونوں نے عتبان بن مالک کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جن کا محمود بن ربیع کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 97]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 97 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تفصیل یہ ہے: ابوموجمہ سے مراد "محمد بن عمرو فزاری"، عبدان سے مراد "عبداللہ بن عثمان مروزی" اور عبداللہ سے مراد "عبداللہ بن مبارک" ہیں۔
وسيأتي بأطول مما هنا برقم (8609) من طريق عبد الرزاق عن معمر. وانظر ما قبله.
📌 اہم نکتہ: یہی روایت نمبر (8609) پر عبدالرزاق عن معمر کے طریق سے زیادہ تفصیل کے ساتھ آئے گی۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس سے پہلی روایت بھی دیکھ لیں۔
(2) قد وَهِمَ المصنف ﵀ في نسبة هذا المذهب إلى الشيخين، بناءً على ما قرَّره هو في بعض كتبه كـ "المدخل إلى الإكليل": أنهما لا يخرجان إلَّا للصحابي الذي له راويان ثقتان فأكثر؛ وهذا مناقض لما ذكره سابقًا في "المستدرك" بإثر حديث (61) بأنهما خرَّجا للصحابي حتى وإن انفرد عنه راوٍ واحد، وهو ما ذكره لاحقًا!! وقد أشار إلى تناقضه هذا الحافظُ السَّخاوي في "فتح المغيث" 1/ 43.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں مصنف (امام حاکم) کو شیخین (بخاری و مسلم) کے مذہب کی نسبت بیان کرنے میں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی بعض کتب مثلاً "المدخل" میں یہ قاعدہ طے کیا تھا کہ شیخین صرف اس صحابی کی روایت لیتے ہیں جس سے دو یا زیادہ ثقہ راویوں نے روایت کی ہو، حالانکہ یہ خود امام حاکم کے اس قول کے متضاد ہے جو انہوں نے المستدرک میں حدیث نمبر 61 کے بعد ذکر کیا کہ شیخین ایسے صحابی کی روایت بھی لیتے ہیں جس سے صرف ایک راوی نے روایت کی ہو۔ 📌 اہم نکتہ: حافظ سخاوی نے "فتح المغیث" (1/43) میں امام حاکم کے اس تضاد کی نشاندہی کی ہے۔
وقد ردَّ على الحاكم في دعواه هذه غيرُ واحدٍ من أئمة الحديث منهم أبو الفضل محمد بن طاهر المقدسي وأبو بكر الحازمي في كتابيهما في شروط الأئمة محتجِّين في رد هذه الدعوى بعدّة أحاديث في "الصحيحين" مما انفرد به صحابيٌّ وعنه تابعيٌّ واحد لا يُعرف روى عنه غيرُه، وانظر "النكت على مقدمة ابن الصلاح" للزركشي 1/ 258 - 266.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام حاکم کے اس دعوے کی کئی ائمہ نے تردید کی ہے، جن میں ابوفضل محمد بن طاہر مقدسی اور ابوبکر حازمی شامل ہیں۔ انہوں نے ائمہ کی شرائط پر مبنی اپنی کتب میں صحیحین کی ایسی کئی احادیث سے استدلال کیا ہے جن میں صحابی سے روایت کرنے والا صرف ایک ہی تابعی ہے اور اس کے علاوہ کسی نے اس سے روایت نہیں کی۔ 📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے زرکشی کی "النکت علی مقدمہ ابن الصلاح" (1/258-266) ملاحظہ فرمائیں۔
(3) ورواية عبد الواحد بن قيس عند أحمد 25/ (5919)، وابن حبان (5956).
📖 حوالہ / مصدر: عبدالواحد بن قیس کی روایت مسند احمد 25/(5919) اور ابن حبان (5956) میں موجود ہے۔
(4) البخاري (424)، ومسلم (33).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (424) اور امام مسلم نے (33) کے تحت روایت کیا ہے۔