🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. هل للإسلام من منتهى
کیا اسلام کی کوئی حد ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح، أخبرنا أبو هانئ حُمَيد بن هانئ الخَوْلاني، أنَّ أبا علي الجَنْبي أخبره، أنه سمع فَضَالةَ بن عُبيد يُخبِر أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول:"طُوبَى لمن هُدِيَ إلى الإسلام، وكان عيشُه كَفَافًا وقَنِعَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وبلغني أنه خرَّجه بإسناد آخر (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 98 - على شرط مسلم
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: خوشخبری (طوبیٰ) ہے اس شخص کے لیے جسے اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اس کی گزر بسر ضرورت کے مطابق رہی اور اس نے اس پر قناعت کی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے دوسری سند سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 98]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 98 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو عبد الرحمن المقرئ: هو عبد الله بن يزيد، وأبو علي الجنبي: هو عمرو بن مالك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوعبدالرحمن المقرئ سے مراد "عبداللہ بن یزید" اور ابوعلی الجنبی سے مراد "عمرو بن مالک" ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (23944)، والترمذي (2349)، وابن حبان (705) من طريق أبي عبد الرحمن المقرئ بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 39/(23944)، ترمذی (2349) اور ابن حبان (705) نے ابوعبدالرحمن المقرئ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه النسائي (11793) من طريق ابن المبارك، عن حيوة بن شريح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (11793) میں ابن مبارک عن حیوہ بن شریح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7321) من طريق ابن وهب عن أبي هانئ الخولاني.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7321) پر ابن وہب عن ابی ہانئ خولانی کے طریق سے آئے گی۔
(2) يشير إلى حديث عبد الله بن عمرو بن العاص مرفوعًا: "قد أفلح من أسلم، ورُزق كفافًا، وقنّعه الله بما آتاه"، أخرجه مسلم برقم (1054).
🧩 متابعات و شواہد: یہاں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث کی طرف اشارہ ہے: "وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اسے بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے اس پر قناعت عطا فرمائی جو اسے دیا"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے نمبر (1054) کے تحت روایت کیا ہے۔