🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. باب : إتمام الصلاة
باب: نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُقِيمُ صُلْبَهُ، وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا، ثُمَّ يَسْجُدُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى، وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ".
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو (اپنی بغلوں سے) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، (اور قعدہ اولیٰ میں) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1062]
حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے وقت برتن میں ہاتھ ڈالتے تو اللہ کا نام لیتے ( «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھتے) اور اچھی طرح کامل وضو کرتے، پھر قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ پھر تکبیر (تحریمہ) کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے، پھر رکوع کرتے تو گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے، اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) الگ رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنی کمر مبارک سیدھی کر لیتے اور قومے میں کھڑے رہتے، جو تمہارے قومے سے تھوڑا سا طویل ہوتا تھا۔ پھر سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ قبلے کی طرف رکھتے اور میں نے دیکھا ہے کہ جہاں تک ہو سکتا بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے، پھر سر اٹھاتے اور بائیں قدم پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بائیں پہلو پر جھکنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17888) (ضعیف جدا) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 874)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حارثة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥حارثة بن أبي الرجال الأنصاري
Newحارثة بن أبي الرجال الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ضعيف الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← حارثة بن أبي الرجال الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1062
استقبل القبلة فيكبر ويرفع يديه حذاء منكبيه يركع فيضع يديه على ركبتيه ويجافي بعضديه ثم يرفع رأسه فيقيم صلبه ويقوم قياما هو أطول من قيامكم قليلا ثم يسجد فيضع يديه تجاه القبلة ويجافي بعضديه ما است
Sunan Ibn Majah Hadith 1062 in Urdu