سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. باب : إتمام الصلاة
باب: نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُقِيمُ صُلْبَهُ، وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا، ثُمَّ يَسْجُدُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى، وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ".
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو (اپنی بغلوں سے) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، (اور قعدہ اولیٰ میں) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1062]
حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے وقت برتن میں ہاتھ ڈالتے تو اللہ کا نام لیتے ( «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھتے) اور اچھی طرح کامل وضو کرتے، پھر قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ پھر تکبیر (تحریمہ) کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے، پھر رکوع کرتے تو گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے، اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) الگ رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنی کمر مبارک سیدھی کر لیتے اور قومے میں کھڑے رہتے، جو تمہارے قومے سے تھوڑا سا طویل ہوتا تھا۔ پھر سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ قبلے کی طرف رکھتے اور میں نے دیکھا ہے کہ جہاں تک ہو سکتا بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے، پھر سر اٹھاتے اور بائیں قدم پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بائیں پہلو پر جھکنا پسند نہیں فرماتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17888) (ضعیف جدا) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 874)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حارثة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
إسناده ضعيف
حارثة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1062
| استقبل القبلة فيكبر ويرفع يديه حذاء منكبيه يركع فيضع يديه على ركبتيه ويجافي بعضديه ثم يرفع رأسه فيقيم صلبه ويقوم قياما هو أطول من قيامكم قليلا ثم يسجد فيضع يديه تجاه القبلة ويجافي بعضديه ما است |
Sunan Ibn Majah Hadith 1062 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق