🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. بَابُ: إِتْمَامِ الصَّلاَةِ
باب: نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ" وَعَلَيْكَ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ بَعْدُ"، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَاعِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو، پھر قبلے کی طرف منہ کرو، اور «الله أكبر» کہو، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہو جاؤ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1060]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک طرف بیٹھے تھے۔ اس نے (نماز کے بعد) آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ» اور تم پر بھی سلام ہو، دوبارہ جا کر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے واپس (اپنی جگہ) جا کر پھر نماز پڑھی، پھر آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ» اور تم پر بھی سلام ہو، جا کر نماز پڑھ، تو نے ابھی نماز نہیں پڑھی۔ تیسری بار اس آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے (نماز پڑھنے کا طریقہ) سکھا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے جانے لگے تو (پہلے) سنوار کر کامل وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر کے «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ، پھر قرآن میں سے جو تیرے لیے آسان ہو پڑھ، پھر رکوع کر حتی کہ اطمینان سے رکوع کر لے، پھر سر اٹھا حتی کہ اطمینان سے کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر حتی کہ اطمینان سے سجدہ کر لے، پھر سر اٹھا حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جائے، پھر ساری نماز اسی طریقے سے ادا کر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستئذان 81 (6251)، الأیمان والنذور 15 (6667)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397) سنن ابی داود/الصلاة 8 14 (856)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (2692)، (تحفة الأشراف: 12983)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 7 (885)، التطبیق 15 (1054)، السہو 66 (1314)، مسند احمد (2/7 43) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث «مسيء الصلاة» کے نام سے اہل علم کے یہاں مشہور ہے، اس لئے کہ صحابی رسول خرباق رضی اللہ عنہ نے یہ نماز اس طرح پڑھی تھی جس میں ارکان نماز یعنی قیام، رکوع اور سجود وغیرہ کو اچھی طرح نہیں ادا کیا تھا جس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی، اور نماز کی یہ تفصیل بیان کی، یعنی ساری نماز کو اسی طرح اطمینان اور تعدیل ارکان کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کی، ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اس شخص نے ہلکی نماز پڑھی تھی، اور رکوع اور سجدے کو پورا نہیں کیا تھا، اس حدیث سے صاف معلوم ہوا ہے کہ نماز میں تعدیل ارکان یعنی اطمینان کے ساتھ رکوع، سجود اور قومہ و جلسہ ادا کرنا فرض ہے، جب ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ ائمہ حدیث نیز امام شافعی، امام احمد، اور امام ابو یوسف وغیرہم نے یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث کے پیش نظر تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہا ہے، اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد نے تعدیل ارکان کو فرض نہیں کہا، بلکہ کرخی کی روایت میں واجب کہا ہے، اور جرجانی کی روایت میں سنت کہا ہے، وجوب اور فرضیت کے قائلین کا استدلال یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں جتنی باتیں بتائی ہیں وہ سب کی سب یا شروط نماز میں سے ہیں جیسے وضو، استقبال قبلہ، یا فرائض و واجبات میں سے، جیسے تکبیر تحریمہ، قرأت فاتحہ، وغیرہ وغیرہ، اور اگر یہ اعمال فرض نہ ہوتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی کو بار بار نماز ادا کرنے کے لئے کیوں حکم دیتے؟ اور یہ فرماتے کہ ابھی تمہاری نماز نہیں ہوئی، یہ اور اس طرح کی احادیث کی روشنی میں تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہنے والے ائمہ کا مسلک صحیح اور راجح ہے، اس کے مقابل میں صرف ان چیزوں کو سنت کہنے والے ائمہ کے اتباع اور مقلدین کے طریقہ نماز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کافی ہے کہ خشوع و خضوع اور تعدیل ارکان کی کتنی اہمیت ہے، اور اس کے مقابل میں سب سے اہم عبادت کو اس طرح ادا کرنا کہ کسی طور پر بھی اطمئنان نہ ہو بس جلدی جلدی ٹکریں مار لی جائیں، یہ بعینہ وہی نماز ہو جائے گی جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی سے فرمایا کہ تم نے نماز ہی نہیں ادا کی اس لئے دوبارہ نماز ادا کرو، «والله الهادي إلى الصواب» .
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَقِرَّ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَمِدًا، لَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ وَيُجَافِي بَيْنَ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلَاتِهِ هَكَذَا، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي يَنْقَضِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا"، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کی موجودگی میں ۱؎، جن میں ایک ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھے، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: کیسے؟ جب کہ اللہ کی قسم آپ نے ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ہے اور نہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے؟، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ... ضرور لیکن میں آپ لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز بیان کریں، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله أكبر» کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے)، اور آپ کا ہر عضو اپنی جگہ پر برقرار رہتا، پھر قراءت کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے)، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک کر رکھتے، نہ تو اپنا سر پیٹھ سے نیچا رکھتے نہ اونچا بلکہ پیٹھ اور سر دونوں برابر رکھتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے، اور دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی، پھر زمین کی طرف (سجدہ کے لیے) جھکتے اور اپنے دونوں ہاتھ پہلو سے جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے، اور سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی رکھتے، پھر سجدہ کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، پھر جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے، تو اپنے دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ۳؎، پھر اپنی باقی نماز اسی طرح ادا فرماتے، یہاں تک کہ جب اس آخری سجدہ سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہے تو بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے، اور بائیں پہلو پہ سرین کے بل بیٹھتے ۲؎، لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے ۳؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1061]
محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو دس صحابہ کی موجودگی میں یہ کہتے سنا، ان دس حضرات میں سے ایک حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ دیگر صحابہ نے کہا: ایسے کیوں کر ہو سکتا ہے، جب کہ آپ ہم سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے نہیں (ہم بھی تو ہر چھوٹے بڑے مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پوری اتباع کرنے کی کوشش کرتے ہیں) نہ تمہیں ہم سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں (اس کے باوجود بات یہی ہے)۔ ان حضرات نے کہا: تب بیان کیجیے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ کندھوں کے برابر اٹھا لیتے اور (ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عضو اپنے اپنے مقام پر ٹھہر جاتا (بلا ضرورت حرکت نہ کرتے) پھر قراءت کرتے، پھر اللہ اکبر کہتے اور اپنے ہاتھ بلند کرتے حتی کہ کندھوں کے برابر اٹھا لیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنے ہاتھ گھٹنوں پر مضبوطی سے رکھتے (رکوع کے دوران میں) نہ اپنا سر بہت زیادہ جھکا دیتے اور نہ بلند رکھتے (بلکہ) اعتدال سے رکوع کرتے۔ پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے برابر بلند کر لیتے (اور سیدھے کھڑے ہو جاتے) حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ ٹھہر جاتی، پھر زمین کی طرف جھکتے اور (سجدے کے دوران میں) اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پاؤں کی انگلیوں کو زمین پر لگاتے، پھر سجدہ کرتے، پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح (تمام ارکان ادا) کرتے، پھر جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ کندھوں کے برابر کر دیتے، پھر باقی نماز بھی اسی طرح ادا کرتے حتی کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں سلام پھیرنا ہوتا تو (تشہد میں بیٹھتے وقت) ایک پاؤں کو (بائیں پاؤں کو) ایک طرف نکال دیتے اور تورک کے طریقے سے جسم کا بایاں حصہ زمین پر رکھ کر بیٹھتے۔ حاضرین نے کہا: آپ نے سچ کہا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 145 (828)، لارسنن ابی داود/الصلاة 181 (963، 964)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (304، 305)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/424)، سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا یہ حدیث دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کی کیونکہ ان سب نے ابوحمید رضی اللہ عنہ کے کلام کی تصدیق کی۔ ۲؎: اس بیٹھک کو تورّک کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ آخری تشہد میں تورک مسنون ہے، رہی افتراش والی روایت تو وہ مطلق ہے اس میں یہ نہیں کہ یہ دونوں تشہد کے لئے ہے یا پہلے تشہد کے لئے ہے، ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی اس روایت نے اس اطلاق کی کر دی ہے اور یہ کہ افتراش پہلے تشہد میں ہے اور تورّک آخری تشہد میں ہے۔ تورّک کے مسئلہ میں اختلاف ہے، یعنی تشہد میں سرین (چوتڑ) کے بل بیٹھے یا نہ بیٹھے، بعض نے کہا کہ دونوں قعدوں (تشہد) میں تورّک کرے، امام مالک کا یہی مذہب ہے، اور بعض نے کہا کسی قعدہ (تشہد) میں تورک نہ کرے، بلکہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے، یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام ہو تو اس میں تورّک کرے، خواہ وہ پہلا تشہد ہو، جیسے نماز فجر میں، یا دوسرا تشہد ہو، جیسے چار یا تین رکعتوں والی نماز، اور جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام نہ ہو اس میں بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھے، اور یہ امام شافعی کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس نماز میں دو قعدے ہوں تو دوسرے قعدہ میں تورک کرے، اور جس نماز میں ایک ہی قعدہ ہو تو اس میں بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھے، امام احمد اور اہل حدیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور حدیث سے یہی ثابت ہے۔ ۳؎: اس روایت سے ان لوگوں کے قول کی بھی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رفع یدین شروع اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہو گیا کیونکہ حدیث کا سیاق یہ بتا رہا ہے کہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں ان سے جو گفتگو کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں چار جگہوں پر رفع یدین کیا جائے گا، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، اور قعدہ اولیٰ (پہلے تشہد) کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُقِيمُ صُلْبَهُ، وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا، ثُمَّ يَسْجُدُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى، وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ".
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو (اپنی بغلوں سے) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، (اور قعدہ اولیٰ میں) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1062]
حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے وقت برتن میں ہاتھ ڈالتے تو اللہ کا نام لیتے ( «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھتے) اور اچھی طرح کامل وضو کرتے، پھر قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ پھر تکبیر (تحریمہ) کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے، پھر رکوع کرتے تو گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے، اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) الگ رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنی کمر مبارک سیدھی کر لیتے اور قومے میں کھڑے رہتے، جو تمہارے قومے سے تھوڑا سا طویل ہوتا تھا۔ پھر سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ قبلے کی طرف رکھتے اور میں نے دیکھا ہے کہ جہاں تک ہو سکتا بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے، پھر سر اٹھاتے اور بائیں قدم پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بائیں پہلو پر جھکنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17888) (ضعیف جدا) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 874)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حارثة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں