علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب : ما جاء في الحلق يوم الجمعة قبل الصلاة والاحتباء والإمام يخطب
باب: نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" الِاحْتِبَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ"، يَعْنِي: وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8803، ومصباح الزجاجة: 404) (حسن)» (اس حدیث کی سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ان کے شیخ مجہول ہیں، لیکن معاذ بن انس کے شاہد سے (جو ابوداود، اور ترمذی میں ہے، اور جس کی ترمذی نے تحسین اور ابن خزیمہ نے تصحیح کی ہے) تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 1017)
وضاحت: ۱؎: «احتباء» : یعنی گوٹ مار کر بیٹھنے کی صورت یہ ہے کہ دونوں ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے باندھ کر کھڑا رکھا جائے، اور سرین (چوتڑ) پر بیٹھا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1134
| نهى رسول الله عن الاحتباء يوم الجمعة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1134 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1134
اردو حاشہ:
فائده:
حدیث میں مذکور بیٹھنے کی کیفیت احتباء کامفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کرکے ان کےگرد سہارا لینے کےلئے دونوں ہاتھ باندھ لینا یا کمر اور گھٹنوں کے گرد کپڑا باندھنا، عرب لوگ اکثر اس طرح بیٹھا کرتے تھے۔
خطبے کے دوران میں اس طرح بیٹھنا درست نہیں کیونکہ اس سے نیند آ جاتی ہے۔
اور خطبے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
علاوہ ازیں اس میں شرم گاہ کے ننگا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
فائده:
حدیث میں مذکور بیٹھنے کی کیفیت احتباء کامفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کرکے ان کےگرد سہارا لینے کےلئے دونوں ہاتھ باندھ لینا یا کمر اور گھٹنوں کے گرد کپڑا باندھنا، عرب لوگ اکثر اس طرح بیٹھا کرتے تھے۔
خطبے کے دوران میں اس طرح بیٹھنا درست نہیں کیونکہ اس سے نیند آ جاتی ہے۔
اور خطبے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
علاوہ ازیں اس میں شرم گاہ کے ننگا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1134]
Sunan Ibn Majah Hadith 1134 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي