پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. . باب : ما جاء في البناء على الصلاة
باب: نماز پر بنا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيٌ، فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے نماز میں قے، نکسیر، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1221]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے نماز میں قے آ جائے یا نکسیر پھوٹے یا کوئی چیز پیٹ سے منہ میں آئے یا مذی نکلے، تو اسے چاہیے کہ (نماز چھوڑ کر) چلا جائے، وضو کرے، پھر اپنی نماز پر بنا کرے، بشرطیکہ اس اثنا میں کلام نہ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16252، ومصباح الزجاجة: 428) (ضعیف)» (اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی روایت حجاز سے ضعیف ہوتی ہے، اور یہ اسی قبیل سے ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لأنه من رواية إسماعيل عن الحجازين وھي ضعيفة‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لأنه من رواية إسماعيل عن الحجازين وھي ضعيفة‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1221
| من أصابه قيء أو رعاف أو قلس أو مذي فلينصرف فليتوضأ ثم ليبن على صلاته وهو في ذلك لا يتكلم |
بلوغ المرام |
69
| من اصابه قيء او رعاف او قلس او مذي، فلينصرف فليتوضا، ثم ليبن على صلاته، وهو في ذلك لا يتكلم |
Sunan Ibn Majah Hadith 1221 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق