سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ
باب: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1259
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: قَالَ:" يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ وَوُجُوهُهُمْ إِلَى الصَّفِّ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَيَسْجُدُونَ لِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُونَ إِلَى مُقَامِ أُولَئِكَ، وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، فَهِيَ لَهُ ثِنْتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ : فَسَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ لِي يَحْيَى: اكْتُبْهُ إِلَى جَنْبِهِ، وَلَسْتُ أَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَلَكِنْ مِثْلُ حَدِيثِ يَحْيَى.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز خوف کے بارے میں کہا: امام قبلہ رو کھڑا ہو، اور ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو، اور ایک جماعت دشمن کے سامنے اس طرح کھڑی ہو کہ ان کے رخ صف کی جانب ہوں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ اسی جگہ میں امام سے علیحدہ اپنے لیے ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کر کے دوسری رکعت پوری کریں، پھر یہ لوگ دوسری جماعت کی جگہ چلے جائیں، اب وہ جماعت آئے اور امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے سے نماز پڑھائے، امام کی نماز دو رکعت ہوئی، اور دوسری جماعت کی ابھی ایک ہی رکعت ہوئی، لہٰذا وہ لوگ ایک رکوع اور دو سجدے الگ الگ کر کے نماز پوری کر لیں ۱؎۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے «شعبة عن عبدالرحمٰن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات عن سهل بن أبي حثمة» کے طریق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ً یحییٰ بن سعید کی روایت کے مثل بیان کیا۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحییٰ القطان نے مجھ سے کہا کہ اسے بھی اس کے پاس ہی لکھ لو اور مجھے تو حدیث یاد نہیں، لیکن یہ یحییٰ کی حدیث کے ہم مثل ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1259]
حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نماز خوف کے بارے میں فرمایا: ”امام قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے اور مجاہدین کی ایک جماعت اس کے ساتھ (اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کے لیے) کھڑی ہو جائے۔ دوسری جماعت دشمن کے مقابل رہے، ان لوگوں کے چہرے صف کی طرف ہوں گے۔ وہ انہیں ایک رکعت پڑھائے گا اور وہ اپنی جگہ چلے جائیں گے اور وہ (دوسری جماعت کے افراد) آ جائیں گے۔ امام کے ساتھ مل کر ایک رکوع اور دو سجدے کریں گے (امام ایک رکعت پڑھائے گا)۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں ہو جائیں گی اور ان (مقتدیوں) کی ایک ایک رکعت، پھر وہ (دونوں گروہوں کے مقتدی) ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے (اپنے اپنے) کر لیں گے۔“ امام ابن ماجہ کے استاد محمد بن بشار رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے یحییٰ بن سعید قطّان رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث شعبہ سے عبدالرحمن کے واسطے سے قاسم سے بیان کی (جب کہ یہی حدیث جب انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے عبدالرحمن کا واسطہ ذکر نہیں کیا) اور یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یحییٰ بن سعید قطّان رحمہ اللہ نے مجھے کہا کہ اس کو انصاری کی حدیث کے ساتھ ہی لکھ لو مجھے حدیث یاد نہیں، یحییٰ نے کہا: لیکن وہ یحییٰ بن سعید انصاری کی حدیث کی مثل ہی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 32 (4131)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (841)، سنن ابی داود/الصلاة 282 (1237)، 283، (1239)، سنن الترمذی/الصلاة 281 (الجمعة 46) (566)، سنن النسائی/الخوف (1537)، (تحفة الأشراف: 4645)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الخوف 1 (2)، مسند احمد (3/448)، سنن الدارمی/الصلاة 185 (1563) (صحیح)»
وضاحت: ۱ ؎: اور اتنی دیر تک کہ دوسرا گروہ اس رکعت سے فارغ ہو امام خاموش بیٹھا رہے، جب یہ دوسری رکعت سے فارغ ہوں تو امام سلام پھیرے اور دونوں گروہ سلام پھیر دیں، کیونکہ دونوں کی نماز ختم ہو گئی، اور پہلے گروہ کو لازم ہے کہ چپکے سے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں بات نہ کریں یہاں تک کہ سلام پھیر دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 1259 in Urdu
صالح بن خوات الأنصاري ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري