سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
158. . باب : ما جاء في الخطبة في العيدين
باب: عیدین میں خطبے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَائِذٍ هُوَ أَبُو كَاهِلٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ حَسْنَاءَ، وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا".
قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1285]
ابو کاہل قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خوبصورت اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دیتے ہوئے سنا اور ایک حبشی نے اس کی مہار تھام رکھی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12142) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1574
| يخطب على ناقة وحبشي آخذ بخطام الناقة |
سنن ابن ماجه |
1285
| يخطب على ناقة حسناء وحبشي آخذ بخطامها |
سنن ابن ماجه |
1284
| يخطب على ناقة وحبشي آخذ بخطامها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1285 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1285
اردو حاشہ:
فوائج ومسائل:
(1)
سفر حج کے دوران میں رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اونٹنی پر سواری کی تھی اس کا نام قصواء تھا۔ (صحیح مسلم، الحج، باب حجة النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 1218)
(2)
جن حضرات نے آپ کی سواری تک کی شکل وصورت یاد رکھی وہ آپ کے فرمان کی کس طرح حفاظت کرتے ہوں گے۔
؟
فوائج ومسائل:
(1)
سفر حج کے دوران میں رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اونٹنی پر سواری کی تھی اس کا نام قصواء تھا۔ (صحیح مسلم، الحج، باب حجة النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 1218)
(2)
جن حضرات نے آپ کی سواری تک کی شکل وصورت یاد رکھی وہ آپ کے فرمان کی کس طرح حفاظت کرتے ہوں گے۔
؟
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1285]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1574
اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
ابو کاہل احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے اور ایک حبشی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1574]
ابو کاہل احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے اور ایک حبشی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1574]
1574۔ اردو حاشیہ: اس روایت میں عید کا ذکر نہیں جبکہ مسند احمد: (4؍306) میں صراحت ہے کہ آپ لوگوں سے عید کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امام صاحب کا استدلال عموم سے ہو۔ بنابریں لوگ زیادہ ہوں اور آواز سب تک نہ پہنچتی ہو یا امام و خطیب نظر نہ آتا ہو تو جانور پر سوار ہو کر بھی خطبہ دیا جا سکتا ہے۔ یا کسی اور اونچی چیز پر، البتہ قصداً منبر عیدگاہ میں لے جانا درست نہیں کہ یہ تکلف میں شمار ہو گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1574]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1284
عیدین میں خطبے کا بیان۔
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1284]
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1284]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا۔
(2)
حبشی سے مراد حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
(3)
بزرگ شخصیت کے لئے جائز ہے۔
کہ کسی سے معمولی خدمت لے لے۔
(4)
اس سے معلوم ہوا کہ سواری وغیرہ پر سوار ہوکر تقریر کی جا سکتی ہے۔
یہ جانوروں پر ظلم کے زمرے میں نہیں آتا او بوقت ضرورت اونچا سٹیج بھی بنایا جا سکتا ہے تاکہ خطیب لوگوں کو باآسانی نظر آ سکے۔
فوائد و مسائل:
(1)
یہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا۔
(2)
حبشی سے مراد حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
(3)
بزرگ شخصیت کے لئے جائز ہے۔
کہ کسی سے معمولی خدمت لے لے۔
(4)
اس سے معلوم ہوا کہ سواری وغیرہ پر سوار ہوکر تقریر کی جا سکتی ہے۔
یہ جانوروں پر ظلم کے زمرے میں نہیں آتا او بوقت ضرورت اونچا سٹیج بھی بنایا جا سکتا ہے تاکہ خطیب لوگوں کو باآسانی نظر آ سکے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1284]
Sunan Ibn Majah Hadith 1285 in Urdu
إسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن عائذ الأحمسي