🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
161. . باب : ما جاء في الخروج إلى العيد ماشيا
باب: عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا".
ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12021، ومصباح الزجاجة: 454) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی: مندل و محمد بن عبیداللہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 636)
وضاحت: ۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ سنت یہی ہے کہ عیدگاہ کو پیدل جائے، اگر عید گاہ دور ہو یا کوئی پیدل نہ چل سکے تو سواری پر جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (1300)
مندل و محمد بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع: ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو رافع القبطي، أبو رافعصحابي
👤←👥عبيد الله بن أسلم المدني
Newعبيد الله بن أسلم المدني ← أبو رافع القبطي
ثقة
👤←👥محمد بن عبيد الله القرشي
Newمحمد بن عبيد الله القرشي ← عبيد الله بن أسلم المدني
متهم بالوضع
👤←👥مندل بن علي العنزي، أبو عبد الله
Newمندل بن علي العنزي ← محمد بن عبيد الله القرشي
متروك الحديث
👤←👥عبد العزيز بن الخطاب الضبي، أبو الحسن
Newعبد العزيز بن الخطاب الضبي ← مندل بن علي العنزي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← عبد العزيز بن الخطاب الضبي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1297
يأتي العيد ماشيا
سنن ابن ماجه
1300
يأتي العيد ماشيا يرجع في غير الطريق الذي ابتدأ فيه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1297 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1297
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس باب کی تمام روایات کو اکثر محققین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
جن میں ہمارے فاضل محقق، دکتور بشار عواد اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔
تاہم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت (1296)
کو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حسن قرار دیا ہے لیکن شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔
شاید امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کودیگر شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہو جو ابن ماجہ کے مزکورہ باب کے تحت آئے ہیں۔
مذید لکھتے ہیں۔
کہ مذکورہ روایات انفرادی طور پرضعیف ہیں۔
لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے۔
کہ مسئلہ کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہے اور پھر اس مسئلہ کی تایئد میں ایک مرسل روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے میں شرکت اورعید الاضحیٰ او ر عید الفطر کی نماز کی ادایئگی کے لئے پیدل تشریف لے جاتے تھے۔
نیز سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔
کہ عید الفطر کی تین سنتیں ہیں۔
عید گاہ کی طرف پیدل جانا۔
عید نماز کی ادایئگی کے لئے جانے سے پہلے کوئی چیز کھانا اور عید نماز کے لئے غسل کرنا۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (إرواء الغلیل، للألبانی: 104، 103/3)
الحاصل مذکورہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید گاہ کی طرف پیدل جانا کم از کم مستحب ضرور ہے۔
تاہم ضروریات کے پیش نظر سواری پر سوار ہو کر بھی جایا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1297]