یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
163. . باب : ما جاء في التقليس يوم العيد
باب: عید کے دن دف بجانے اور کھیلنے کودنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1302
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: شَهِدَ عِيَاضٌ الْأَشْعَرِيُّ عِيدًا بِالْأَنْبَارِ، فَقَالَ:" مَا لِي لَا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ كَمَا كَانَ يُقَلَّسُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1302]
حضرت عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت عیاش اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک عید انبار میں منائی تو فرمایا: ”کیا بات ہے میں تمہیں گاتے بجاتے نہیں دیکھ رہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گانا بجانا ہوتا تھا؟“” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11017، ومصباح الزجاجة: 1302) (ضعیف)» (سند میں شریک ضعیف الحدیث راوی ہیں، اور ایسے ہی سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: رقم: 4285)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك القاضي و مغيرة عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
إسناده ضعيف
شريك القاضي و مغيرة عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عياض بن عمرو الأشعري | مخضرم | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← عياض بن عمرو الأشعري | ثقة | |
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم المغيرة بن مقسم الضبي ← عامر الشعبي | ثقة مدلس | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← المغيرة بن مقسم الضبي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد سويد بن سعيد الهروي ← شريك بن عبد الله القاضي | صدوق يخطئ كثيرا |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1302
| ما لي لا أراكم تقلسون كما كان يقلس عند رسول الله |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1302 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1302
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انبار ایک شہر کا نام ہے۔
(2)
تقلیس کے معنی ہیں۔
خوشی کے موقع پر اظہار مسرت کےلئے قومی کھیل کود، بچیوں کا قومی گیت گانا یا دف وغیرہ بجا لینا۔
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی کے موقعوں پر ان چیزوں کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رکھا ہے۔
لیکن ایک چیز ہے گھریلو سطح پرگھریلو بچیوں کا محدود دائرے میں دف بجا کر یا آباء واجداد کے مفاخر ومآثر کے تذکروں پر مبنی قومی گیت گا کر خوشی کا اظہار کرنا، اور ایک ہے ماہرفن مغنیات کا عشقیہ مخرب اخلاق، رہزن تمکین وہوش اور غارت گر ایمان قسم کے گانے سازوآواز کے جادو کے ساتھ گانا یا پیشہ ور فاحشہ عورتوں کاعریاں یا نیم عریاں رقص وسرور کا مظاہرہ کرنا ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اوّل الذکر کے جواز کا مطلب ثانی الذکر کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔
بڑا ظالم ہے وہ شخص جو احادیث میں بیان کردہ اول الذکر قسم کے واقعات سے دوسری قسم کے فواحش ومنکرات کا جواز ثابت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان بےہودگیوں کا (نعوذ باللہ)
مؤید ثابت کرتا ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان فواحش کو مٹانے کےلئے آئے تھے نہ کہ ان کو برقرار رکھنے یا ان کی حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ھداھم اللہ تعالیٰ علاوہ ازیں اول الذکر چیزیں بھی صرف مباح (جائز)
ہی ہیں نہ کہ فرض وواجب یا سنت ومستحب اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ کوئی مباح کام حرام کا ذریعہ بن رہا ہو تو وہ مباح کام بھی ناجائز قرار پاتا ہے۔
اور حرام سے بچنے بچانے کے لئے مباح کام سے بھی لوگوں کوروک دیا جاتا ہے۔
اس لئے جو علماء شادی وغیرہ کے موقع پر ان جائز چیزوں سے بھی روکتے ہیں۔
حکمت عملی کے اعتبار سے ان کا موقف اسلام کے زیادہ قریب ہے۔
کیونکہ بات صرف دف تک ہی نہیں رہتی۔
ڈھول ڈھمکوں سازوموسیقی اور بینڈ باجوں تک بلکہ مجروں اور کھلم کھلا فواحش و منکرات کے ارتکاب تک پہنچ جاتی ہے۔
أعاذنا اللہ منه
فوائد و مسائل:
(1)
انبار ایک شہر کا نام ہے۔
(2)
تقلیس کے معنی ہیں۔
خوشی کے موقع پر اظہار مسرت کےلئے قومی کھیل کود، بچیوں کا قومی گیت گانا یا دف وغیرہ بجا لینا۔
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی کے موقعوں پر ان چیزوں کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رکھا ہے۔
لیکن ایک چیز ہے گھریلو سطح پرگھریلو بچیوں کا محدود دائرے میں دف بجا کر یا آباء واجداد کے مفاخر ومآثر کے تذکروں پر مبنی قومی گیت گا کر خوشی کا اظہار کرنا، اور ایک ہے ماہرفن مغنیات کا عشقیہ مخرب اخلاق، رہزن تمکین وہوش اور غارت گر ایمان قسم کے گانے سازوآواز کے جادو کے ساتھ گانا یا پیشہ ور فاحشہ عورتوں کاعریاں یا نیم عریاں رقص وسرور کا مظاہرہ کرنا ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اوّل الذکر کے جواز کا مطلب ثانی الذکر کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔
بڑا ظالم ہے وہ شخص جو احادیث میں بیان کردہ اول الذکر قسم کے واقعات سے دوسری قسم کے فواحش ومنکرات کا جواز ثابت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان بےہودگیوں کا (نعوذ باللہ)
مؤید ثابت کرتا ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان فواحش کو مٹانے کےلئے آئے تھے نہ کہ ان کو برقرار رکھنے یا ان کی حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ھداھم اللہ تعالیٰ علاوہ ازیں اول الذکر چیزیں بھی صرف مباح (جائز)
ہی ہیں نہ کہ فرض وواجب یا سنت ومستحب اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ کوئی مباح کام حرام کا ذریعہ بن رہا ہو تو وہ مباح کام بھی ناجائز قرار پاتا ہے۔
اور حرام سے بچنے بچانے کے لئے مباح کام سے بھی لوگوں کوروک دیا جاتا ہے۔
اس لئے جو علماء شادی وغیرہ کے موقع پر ان جائز چیزوں سے بھی روکتے ہیں۔
حکمت عملی کے اعتبار سے ان کا موقف اسلام کے زیادہ قریب ہے۔
کیونکہ بات صرف دف تک ہی نہیں رہتی۔
ڈھول ڈھمکوں سازوموسیقی اور بینڈ باجوں تک بلکہ مجروں اور کھلم کھلا فواحش و منکرات کے ارتکاب تک پہنچ جاتی ہے۔
أعاذنا اللہ منه
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1302]
Sunan Ibn Majah Hadith 1302 in Urdu
عامر الشعبي ← عياض بن عمرو الأشعري