علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
189. . باب : ما جاء في صلاة الحاجة
باب: نماز حاجت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1384
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُكَ أَلَّا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِي، ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مَا شَاءَ، فَإِنَّهُ يُقَدَّرُ".
عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: ”جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها» ”کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے، کریم (کرم والا) ہے، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، اور تمام غموں کو دور کر دے، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لیے پوری کر دے“۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے، تو وہ اس کے نصیب میں کر دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1384]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”جس کو اللہ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت درپیش ہو، اسے چاہیے کہ وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے پھر کہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُكَ أَلَّا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِي» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو حلم والا اور کرم والا ہے۔ پاک ہے اللہ جو عرشِ عظیم کا مالک ہے، تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے وہ چیزیں (اعمال و خصال) مانگتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہیں اور تیری بخشش کا باعث بننے والے (اعمال) اور ہر نیکی میں حصہ اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ میرا کوئی گناہ معاف کیے بغیر، کوئی غم ختم کیے بغیر اور کوئی حاجت جو تیری رضا کے مطابق ہو، پوری کیے بغیر نہ چھوڑ۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی جو حاجت چاہے مانگ لے۔ اس کی قسمت میں وہ چیز ہو جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5178، ومصباح الزجاجة: 485)، قد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 231 (479) (ضعیف جدا)» (سوید بن سعید متکلم فیہ اور فائد بن عبد الرحمن منکر الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (479)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (479)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
479
| من كانت له إلى الله حاجة أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ فليحسن الوضوء ثم ليصل ركعتين ثم ليثن على الله وليصل على النبي ثم ليقل لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك |
سنن ابن ماجه |
1384
| من كانت له حاجة إلى الله أو إلى أحد من خلقه فليتوضأ وليصل ركعتين ثم ليقل لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا |
Sunan Ibn Majah Hadith 1384 in Urdu
فايد بن عبد الرحمن المدني ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي