🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : ما جاء في غسل الميت
باب: میت کو غسل دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1460
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ، وَلَا مَيِّتٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1460]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنی ران ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 32 (3140)، (تحفة الأشراف: 10133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/146) (ضعیف جدًا) (بشربن آدم ضعیف ہیں، نیز سند میں دو جگہ انقطاع ہے، ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب اورعاصم کے درمیان، ملاحظہ ہو: الإرواء: 269)» ‏‏‏‏
وضاحت: : ۱؎ اس حدیث کو مؤلف نے اس باب میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ مردے کو غسل دینے میں اس کی ران نہ کھولیں اور نہ ستر بلکہ کپڑا ستر پر ڈھانپ کر غسل دیں کیونکہ ستر مردہ اور زندہ کا یکساں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
سنن أبي داود (4015،3140)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عاصم بن ضمرة السلولي
Newعاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى
Newحبيب بن أبي ثابت الأسدي ← عاصم بن ضمرة السلولي
ثقة فقيه جليل
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥بشر بن آدم البصري، أبو عبد الرحمن
Newبشر بن آدم البصري ← روح بن عبادة القيسي
صدوق فيه لين
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3140
لا تنظرن إلى فخذ حي ولا ميت
سنن أبي داود
4015
لا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت
سنن ابن ماجه
1460
لا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1460 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1460
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ٹانگ کا گھٹنے سےاوپر کا حصہ فخد (ران)
کہلاتا ہے۔
اور اس سے متعلق یہ (1460)
روایت ضعیف ہے۔
اسی لئے اس کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل ہے یا نہیں اور کسی کی ران کو دیکھنا شرعا جائز ہے یا ممنوع۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان اس طرف معلوم ہوتا ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل تو نہیں تاہم اسے چھپانا افضل ہے۔
اس کے بارے میں اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔
ابن عباس جرہد اور محمد بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ران ستر ہے۔
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے کپڑاہٹا دیا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سند کے لحاظ سے زیادہ قوی ہے۔
اور حضرت جرہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔
تاکہ علماء کے اختلاف سے نکل جایئں۔
۔
۔ (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب مایذکر فی الفخذ، قبل حدیث: 371)
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے احکام الجنائز میں ران کے ستر ہونے کو ترجیح دی ہے۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (اِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ)
ران ستر ہے والی حدیث کو حسن قرار دیاہے۔ (جامع ترمذي، الأدب، باب ما جاء ان الفخذ عورۃ، حدیث: 2795)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1460]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4015
ننگا ہونا منع ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران نہ کھولو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں نکارت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4015]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ عذر شرعی کے بغیر ران ننگی کرنا یا کسی کی ران دیکھنا جائز نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4015]

Sunan Ibn Majah Hadith 1460 in Urdu