🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : ما جاء في النهي عن التسلب مع الجنازة
باب: جنازہ کے ساتھ ماتمی لباس پہننے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1485
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، وأبى برزة قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ، يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ"، قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ، وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ.
عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1485]
حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: ایک جنازے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ افراد نے (اوڑھنے والی) چادریں اتار پھینکی ہیں اور صرف قمیصیں پہن کر چل رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جاہلیت کا عمل اختیار کر رہے ہو؟ کیا تم جاہلیت کے کام سے مشابہت اختیار کرتے ہو؟ میرا جی چاہا تھا کہ تمہیں ایسی بددعا دوں کہ تمہاری صورتیں تبدیل ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی چادریں اوڑھ لیں اور دوبارہ یہ غلطی نہیں کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10864، 11602، ومصباح الزجاجة: 528) (موضوع)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں نفیع بن حارث متروک الحدیث اور متہم بالوضع ہے، نیز علی بن الحزور متروک و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 1750)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
أبو داود نفيع الأعمي: متروك وقد كذبه ابن معين
وتلميذه علي بن الحزور متروك شديد التشيع (تقريب: 4703)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نضلة بن عمرو الأسلمي، أبو برزةصحابي
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد
Newعمران بن حصين الأزدي ← نضلة بن عمرو الأسلمي
صحابي
👤←👥نفيع بن الحارث الهمداني، أبو داود
Newنفيع بن الحارث الهمداني ← عمران بن حصين الأزدي
متهم بالوضع
👤←👥علي بن أبي فاطمة الغنوي
Newعلي بن أبي فاطمة الغنوي ← نفيع بن الحارث الهمداني
متروك شديد التشيع
👤←👥عمرو بن النعمان الباهلي
Newعمرو بن النعمان الباهلي ← علي بن أبي فاطمة الغنوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← عمرو بن النعمان الباهلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1485
بصنع الجاهلية تشبهون لقد هممت أن أدعو عليكم دعوة ترجعون في غير صوركم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1485 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1485
اردو حاشہ:
فائدہ:
جو کام غير مسلمانوں میں رائج ہیں مسلمانوں کو انھیں اختیار کرنے سے پرہیز کرنا ضروری ہے غیر مسلموں سے مشابہت حرام ہونے کے دلائل قرآن وحدیث میں موجود ہیں۔
اس لئے خوشی کا موقع ہو یا غمی کا یہود نصاریٰ اور ہندووں کے رسم ورواج سے اجتناب کرنا فرض ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1485]

Sunan Ibn Majah Hadith 1485 in Urdu