سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : فضائل خباب
باب: خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، مِثْلَهُ عِنْدَ ابْنِ قُدَامَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ فِي حَقِّ زَيْدٍ:" وَأَعْلَمُهُمْ بِالْفَرَائِضِ".
ابوقلابہ سے ابن قدامہ کے نزدیک اسی کے مثل مروی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حق میں: «أفرضهم» کے بجائے «أعلمهم بالفرائض» ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة | ثقة | |
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله خالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← خالد الحذاء | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن علي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 155 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث155
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث میں بعض صحابہ کرام ؓ کی امتیازی خوبیاںبیان کی گئی ہیں، ہر صحابی جس صفت میںدوسروں سے ممتاز ہے اس کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم صحابہ کرام ؓ میں ہر قسم کی خوبیاں موجود تھیں
(2)
قائد کو اپنے ساتھیوں کی خوبیوں کا علم ہونا چاہیےتاکہ ہر شخص کو وہ فرائض سونپے جائیں جنھیں وہ ادا کرنے کی اہلیت زیادہ رکھتا ہو۔
(3)
مختلف علماء الگ الگ شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں، ہر علم کے لیے اس کے ماہر عالم کی طرف رجوع کرنا چاہیے، ان سب کی اہمیت، معاشرے میں ان کی ضرورت اور ان کی قدرومنزلت برابر ہے۔
(1)
اس حدیث میں بعض صحابہ کرام ؓ کی امتیازی خوبیاںبیان کی گئی ہیں، ہر صحابی جس صفت میںدوسروں سے ممتاز ہے اس کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم صحابہ کرام ؓ میں ہر قسم کی خوبیاں موجود تھیں
(2)
قائد کو اپنے ساتھیوں کی خوبیوں کا علم ہونا چاہیےتاکہ ہر شخص کو وہ فرائض سونپے جائیں جنھیں وہ ادا کرنے کی اہلیت زیادہ رکھتا ہو۔
(3)
مختلف علماء الگ الگ شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں، ہر علم کے لیے اس کے ماہر عالم کی طرف رجوع کرنا چاہیے، ان سب کی اہمیت، معاشرے میں ان کی ضرورت اور ان کی قدرومنزلت برابر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 155]
خالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي