🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : ما جاء في إدخال الميت القبر
باب: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا، وَاسْتل استِلالًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے (قبر میں) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1552]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کو قبلے کی طرف سے لیا گیا اور اٹھا کر قبر میں داخل کر دیے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4218، ومصباح الزجاجة: 552) (منکر)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: 150)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية: ضعيف مدلس
والمحاربي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن
Newعطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥عمرو بن قيس الملائي، أبو عبد الله
Newعمرو بن قيس الملائي ← عطية بن سعد العوفي
ثقة متقن
👤←👥عبد الرحمن بن محمد المحاربي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن محمد المحاربي ← عمرو بن قيس الملائي
ثقة
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← عبد الرحمن بن محمد المحاربي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1552
أخذ من قبل القبلة واستقبل استقبالا واستل استلالا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1552 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1552
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم میت کو قبر میں داخل کر نے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو گزشتہ حدیث کے فوائد میں مذکور ہے۔
باقی رہا میت کا چہرہ اور جسم قبلہ کی طرف کرنا تو اس کی بابت علمائے کرام یہی لکھتے ہیں۔
کہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے تو ثابت نہیں ہے۔
البتہ چہرہ قبلے کی طرف کردیا جائے تو بہتر ہے۔
امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک مسلمانوں کا اسی پر عمل ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھیں:
(المحلی لابن حزم: 173/5 وأحکام الجنائز، ص: 192)

(2)
حدیث کے الفاظ (والستل استلالا)
 کی بابت علمائے محققین لکھتے ہیں۔
ان الفاظ کی کوئی اصل نہیں ہے۔
کیونکہ امام مزی نے تحفۃ الاشراف اور امام بوصیری نے مصباح الزجاجہ میں ان کو ذکر نہیں کیا بلکہ ان الفاظ کی بجائے:
(وَاسْتُقْبِلَ اِسْتِقْبَالًا)
کا ذکر کیا ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، للدکتور بشار عواد، حدیث: 1552)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1552]

Sunan Ibn Majah Hadith 1552 in Urdu