🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : ما جاء في إدخال الميت القبر
باب: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1551
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا، وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12014، ومصباح الزجاجة: 551) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبید اللہ بن أبی رافع بہت زیادہ منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 17219)
وضاحت: ۱؎: سنت یہی ہے کہ میت کو قبر کے پائتانے سے قبر کے اندر اس طرح کھینچا جائے کہ پہلے سر کا حصہ قبر میں داخل ہو، اور قبر میں اسے دائیں پہلو لٹایا جائے، اس طرح پر کہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور سر قبلہ کے دائیں ہو، اور پیر اس کے بائیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مندل ومحمد بن عبيداللّٰه: ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو رافع القبطي، أبو رافعصحابي
👤←👥الحصين القرشي، أبو داود
Newالحصين القرشي ← أبو رافع القبطي
مقبول
👤←👥داود بن الحصين القرشي، أبو سليمان
Newداود بن الحصين القرشي ← الحصين القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عبيد الله القرشي
Newمحمد بن عبيد الله القرشي ← داود بن الحصين القرشي
متهم بالوضع
👤←👥مندل بن علي العنزي، أبو عبد الله
Newمندل بن علي العنزي ← محمد بن عبيد الله القرشي
متروك الحديث
👤←👥عبد العزيز بن الخطاب الضبي، أبو الحسن
Newعبد العزيز بن الخطاب الضبي ← مندل بن علي العنزي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الملك بن محمد الرقاشي، أبو محمد، أبو قلابة
Newعبد الملك بن محمد الرقاشي ← عبد العزيز بن الخطاب الضبي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1551
سل رسول الله سعدا ورش على قبره ماء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1551 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1551
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم اس مسئلے کی بابت ایک روایت سنن ابی داؤد میں مروی ہے جسے محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس میں ہے کہ حارث اعور نے وصیت کی کہ حضرت عبد اللہ بن یزید حطمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی نماز جنازہ پڑھایئں۔
چنانچہ انھوں نے جنازہ پڑھایا پھر انہیں پائنتی کی طرف سے قبر میں اُتارا اور فرمایا یہ سنت ہے۔ (سنن ابی داؤد الجنائز، باب کیف یدخل المیت قبرہ، حدیث: 3211)
 اسے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اورشیخ علی زئی نے صحیح قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں کسی صحابی کا کسی عمل کو سنت کہنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مرُاد ہوتی ہے۔
اور اسے اصطلاحاً مرفوعاً حکمی کہتے ہیں۔
نیز پانی چھڑکنے کا ذکر ہمیں کسی صحیح حدیث سے نہیں مل سکا۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1551]