🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب : ما جاء في النهي عن زيارة النساء القبور
باب: عورتوں کے لیے زیارت قبور منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1576
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ أَبُو نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 62 (1056)، (تحفة الأشراف: 14980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/337، 356) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن طالب مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 762)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥عمر بن أبي سلمة القرشي
Newعمر بن أبي سلمة القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق يخطئ
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عمر بن أبي سلمة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن طالب بن علي
Newمحمد بن طالب بن علي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
مجهول
👤←👥محمد بن خلف العسقلاني، أبو نصر
Newمحمد بن خلف العسقلاني ← محمد بن طالب بن علي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1056
لعن زوارات القبور
سنن ابن ماجه
1576
لعن رسول الله زوارات القبور
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1576 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1576
اردو حاشہ:
فائدہ:
 اس سے مراد بار بار زیارت کرنے والیاں ہیں۔
زوارات مبالغے کا صیغہ ہے۔
یعنی کثرت سے یا بار بار زیارت کرنے والی عورتیں۔
کبھی کبھار جانے کا جواز اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ قبرستان میں جا کر مدفونین کے لئے کس طرح دعا کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ نہیں فرمایا تم جایا ہی نہ کرو۔
یوں کہا۔ (السَّلَامُ عَلَي أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُوْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْن...الخ)
 ديكھیے:
(صحیح مسلم، الجنائز، باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء لأھلھا:
حدیث: 974)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1576]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
ابوعبدالله صارم حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ترمذي 1056
عوتوں کے لیے قبروں کی زیارت
«. . . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے . . . [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1056]
فوائد و مسائل:
یہ ممانعت منسوخ ہے:
قبروں کی زیارت سے مردوں اور عوتوں سب کو منع کیا گیا تھا، لیکن بعد میں یہ ممانعت منسوخ کر کے سب کو اجازت دے دی گئی۔ یہ حدیث اس دور کی ہے، جب قبروں کی زیارت منع تھی۔
امام حاکم رحمہ اللہ اس اور اس جیسی دیگر احادیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
زیارت قبور سے ممانعت کے بارے میں مروی یہ احادیث منسوخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين: 1385]
↰ امام حاکم رحمہ اللہ کہ یہ بات بالکل درست ہے، درج ذیل دلائل بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہیں۔

دلیل نمبر:
عبداللہ بن ابوملیکہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن قبرستان کی جانب سے آئیں، تو میں نے ان سے دریافت کیا: مومنوں کی ماں! آپ کہاں سے آئی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کی قبر سے۔ میں عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں فرمایا تھا؟ سیدہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: جی منع تو فرمایا تھا، لیکن بعد میں قبروں کی زیارت کا حکم فرما دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين للحاكم: 376/1، السنن الكبريٰ للبيهقي 78/3 وسنده صحيح]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ [تلخيص المستدرك: 376/1]
◈ حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید کہا ہے۔ [تخريج احاديث الاحياء: 2608/8]
◈ حافظ بوصیری لکھتے ہیں: یہ سند صحیح اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [مسباح الزجاجة: 568]
سنن ابن ماجہ [1570] کے الفاظ یوں ہیں:
«رخص فى زيارة القبور»
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی۔

دلیل نمبر:
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«نهيتكم عن زيارة القبور، فزوروها»
میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، لیکن اب تم قبرستان چلے جایا کرو۔ [صحيح مسلم: 977]
↰ یہ حدیث پاک عام ہے، جس میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔ مذکورہ بالا حدیث بھی یہی بتاتی ہے۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 69، حدیث/صفحہ نمبر: 17]

Sunan Ibn Majah Hadith 1576 in Urdu