🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب في النهي عن النياحة
باب: نوحہ (میت پر چلا کر رونا) منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1583
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7405، ومصباح الزجاجة: 570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/92) (حسن)» ‏‏‏‏ (لیث نے مجاہد سے روایت کرنے میں ابویحییٰ القتات کی متابعت کی ہے، اس لئے یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: 528)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو يحيي القتات: روي عنه إسرائيل أحاديث كثيرة مناكير جدًا،قاله أحمد (سنن أبي داود:4069)
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥زاذان القتات، أبو يحيى
Newزاذان القتات ← مجاهد بن جبر القرشي
مقبول
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← زاذان القتات
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
👤←👥أحمد بن يوسف الأزدي، أبو الحسن
Newأحمد بن يوسف الأزدي ← عبيد الله بن موسى العبسي
حافظ ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1583
نهى أن تتبع جنازة معها رانة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1583 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1583
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ الموسوعۃ الحدیثیۃ کے محققین اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
موسوعۃ الحدیثیۃ کے محققین اس بات کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت مجموع طرق اور شواہد کی بنا پر حسن درجے کی ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 480، 479/9- وأحکام الجنائز، ص: 70)

(2)
جنازہ کے ساتھ جانا مسلمان کا مسلمان پر ایک اہم حق ہے۔
لیکن گناہ کے ارتکاب کی صورت میں یہ حق ختم ہوجاتا ہے۔
اس طرح دعوت قبول کرنا بھی مسلمان کامسلمان پر حق ہے۔
لیکن اگر تقریب میں گناہ کے کام ہورے ہوں۔
مثلاً بے پردگی، تصویر کشی، ویڈیو فلم بنانا، ہندوانہ رواج پر تو ایسی تقریب میں شریک نہ ہونا درست ہے۔
خاص طور پر جب حاضر نہ ہونے سے گناہ کا ارتکاب کرنے والے کو تنبیہ ہونے کی توقع ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1583]