علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب : ما جاء في البكاء على الميت
باب: میت پر رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1589
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي إِمَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِمَّا عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهُ حَقَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، لَوْلَا أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ، وَأَنَّ الْآخِرَ تَابِعٌ لِلْأَوَّلِ، لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا، وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے (وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1589]
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے۔ تعزیت کرنے والے ایک صاحب ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ کی یہ شان ہے کہ آپ اللہ کے حق کی عظمت کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، دل غمگین ہے، (لیکن) ہم وہ الفاظ نہیں کہیں گے جن سے اللہ ناراض ہو، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ یہ (موت) ایک سچا وعدہ ہے (جس سے مفر نہیں) اور اس وعدہ کی چیز (موت) کی وجہ سے سب (عالم آخرت میں) اکٹھے ہونے والے ہیں اور بعد والا بھی پہلے والے کے پیچھے جانے والا ہے تو اے ابراہیم! ہمیں (اب) جتنا غم ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ ہوتا اور ہم تیری وجہ سے یقیناً غمگین ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15772، ومصباح الزجاجة: 572) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں کلام ہے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1732)»
وضاحت: ۱؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسوں کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسماء بنت يزيد الأنصارية، أم سلمة، أم عامر | صحابي | |
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد شهر بن حوشب الأشعري ← أسماء بنت يزيد الأنصارية | صدوق كثير الإرسال والأوهام | |
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان عبد الله بن عثمان القاري ← شهر بن حوشب الأشعري | مقبول | |
👤←👥يحيى بن سليم الطائفي، أبو محمد، أبو زكريا يحيى بن سليم الطائفي ← عبد الله بن عثمان القاري | صدوق سيئ الحفظ | |
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد سويد بن سعيد الهروي ← يحيى بن سليم الطائفي | صدوق يخطئ كثيرا |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1589
| تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول ما يسخط الرب لولا أنه وعد صادق وموعود جامع وأن الآخر تابع للأول لوجدنا عليك يا إبراهيم أفضل مما وجدنا وإنا بك لمحزونون |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1589 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1589
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی عزیز یا دوست کی وفات پر رونا جائز ہے۔
بشر ط یہ کہ جاہلیت کا انداز اختیار نہ کیاجائے۔
(2)
دوسرے افراد کو چاہیے کہ فوت ہونے والے کے اقارب کو مناسب انداز سے تسلی دیں۔
جس سے ان کے غم میں تخفیف ہو۔
(3)
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی۔
اب اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے یہ ادب کے دائرے میں رہ کر صبر کی تلقین ہے۔
(4)
اصل صبر یہ ہے کہ غم کے وقت بھی اپنی زبان اور ہاتھ وغیرہ کو ناجائز امور سے محفوظ رکھا جائے۔
ایسے الفاظ نہ کہے جایئں جن سے اللہ پر ناراضی کا اظہار ہوتا ہو۔
(5)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے ہونے والے غم کے سلسلے میں ایک اہم اصولی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔
وہ یہ کہ موت کا وعدہ سچا ہے۔
اس سے کسی کو مفر نہیں اگر فوت ہونے والا آج نہ جاتا تو کل چلا جاتا۔
آخر جانا ہی تھا۔
اور دوسری بات یہ کہ موت سے حاصل ہونے والی جدائی ایک عارضی جدائی ہے۔
اگر ایک فرد ہم سے پہلے فوت ہوکر ہم سے جدا ہوگیا ہے تو پیچھے رہنے والے کو بھی فوت ہوکر وہیں پہنچنا ہے۔
پھر یہ جدائی ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد جدائی نہیں ہوگی۔
اگر ان دو امو ر کی طرف توجہ کی جائے تو موت کا غم یقیناً ہلکا ہوجاتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
کسی عزیز یا دوست کی وفات پر رونا جائز ہے۔
بشر ط یہ کہ جاہلیت کا انداز اختیار نہ کیاجائے۔
(2)
دوسرے افراد کو چاہیے کہ فوت ہونے والے کے اقارب کو مناسب انداز سے تسلی دیں۔
جس سے ان کے غم میں تخفیف ہو۔
(3)
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی۔
اب اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے یہ ادب کے دائرے میں رہ کر صبر کی تلقین ہے۔
(4)
اصل صبر یہ ہے کہ غم کے وقت بھی اپنی زبان اور ہاتھ وغیرہ کو ناجائز امور سے محفوظ رکھا جائے۔
ایسے الفاظ نہ کہے جایئں جن سے اللہ پر ناراضی کا اظہار ہوتا ہو۔
(5)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے ہونے والے غم کے سلسلے میں ایک اہم اصولی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔
وہ یہ کہ موت کا وعدہ سچا ہے۔
اس سے کسی کو مفر نہیں اگر فوت ہونے والا آج نہ جاتا تو کل چلا جاتا۔
آخر جانا ہی تھا۔
اور دوسری بات یہ کہ موت سے حاصل ہونے والی جدائی ایک عارضی جدائی ہے۔
اگر ایک فرد ہم سے پہلے فوت ہوکر ہم سے جدا ہوگیا ہے تو پیچھے رہنے والے کو بھی فوت ہوکر وہیں پہنچنا ہے۔
پھر یہ جدائی ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد جدائی نہیں ہوگی۔
اگر ان دو امو ر کی طرف توجہ کی جائے تو موت کا غم یقیناً ہلکا ہوجاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1589]
Sunan Ibn Majah Hadith 1589 in Urdu
شهر بن حوشب الأشعري ← أسماء بنت يزيد الأنصارية