🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب : ما جاء في ثواب من عزى مصابا
باب: غم زدہ کی تعزیت کرنے والے کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1601
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏(ابو عمارہ قیس میں کلام ہے، اور عبد اللہ بن أبی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبیہ عن جدہ میں جد (دادا) محمد بن عمر و بن حزم ہیں، جن کو رویت حاصل ہے، لیکن صرف صحابہ کرام سے ہی سماع ہے، رسول اکرم ﷺ سے سماع نہیں ہے، لیکن انس رضی اللہ عنہ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 764، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 195، تراجع الألبانی: رقم: 55)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قيس أبو عمارة: فيه لين (تقريب: 5598) ضعيف (التحرير 3/ 190)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن حزم الأنصاري، أبو محمد، أبو الضحاكصحابي
👤←👥أبو بكر بن عمرو الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمرو الأنصاري ← عمرو بن حزم الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← أبو بكر بن عمرو الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥قيس الفارسي، أبو عمارة
Newقيس الفارسي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
مقبول
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم
Newخالد بن مخلد القطواني ← قيس الفارسي
مقبول
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← خالد بن مخلد القطواني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1601
ما من مؤمن يعزي أخاه بمصيبة إلا كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1601 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1601
اردو حاشہ:
فوائد و مسائلگ
(1)
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے۔
تاہم تعزیت کرنا صحیح روایات سے ثابت ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے مذکورہ روایت کو حسن بھی قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (الصحیحة، رقم: 195، الطبعة الجدیدۃ، والإرواء، رقم: 764)

(2)
تعزیت کا مطلب ہے مصیبت زدہ سے یا میت کے اقارب سے اظہار افسوس کرنا انھیں تسلی دینا صبر کی تلقین کرنا اور ایسی باتیں کرنا جس سے ان کا غم ہلکا ہو۔
مثلاً یوں کہے:
اللہ مر حوم کی مغفرت فرمائے۔
ان کے درجے بلند فرمائے۔
اور آپ کو صبر پر اجر عظیم دے۔
یا یہ کہنا کہ اللہ کی امانت تھی۔
جو اس نے لے لی وغیرہ۔

(2)
تعزیت کرنا مومن سے ہمدردی کا اظہار ہے اور مومن سے ہمدردی ایمان کا جزو ہے۔

(3) (حلة)
 (خلعت)
سے مراد عمدہ لباس ہے جو قیامت کے دن اللہ کی طرف سے بعض نیکیوں کے بدلے میں دیا جائے گا۔
جس سے سب لوگوں کے سامنے سے اس شخص کی عزت وعظمت اور اس کے بلند مقام کا اظہار ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1601]