یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. باب : ما جاء فيمن مات مريضا
باب: بیماری کی حالت میں مرنے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا، وَوُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1615]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیمار ہو کر مرا، وہ شہید ہوا، اسے قبر کے عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا اور اسے صبح و شام جنت سے رزق دیا جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14627، ومصباح الزجاجة: 588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/404) (ضعیف جدا)» (اس کی سند میں ابراہیم بن محمد سخت ضعیف ہیں، اور حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
إبراهيم الأسلمي: متروك
و قيل: أنه كان يتبرأ من ھذا الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
إسناده ضعيف جدًا
إبراهيم الأسلمي: متروك
و قيل: أنه كان يتبرأ من ھذا الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1615
| من مات مريضا مات شهيدا ووقي فتنة القبر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1615 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1615
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن جریج ہے۔
اس سے غلطی ہوئی ہے یا ابراہیم بن محمد بن ابو عطاء نے غلطی کی ہے۔
اس لئے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔
اصل میں یہ فضیلت جہاد کے موقع پر سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کےلئے ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
ایک دن رات سرحد پرٹھرنا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔
اور اگر وہ (محاذ پر ٹھرنے کے دوران میں)
فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا۔
جو وہ کرتا تھا۔ (اس عمل کا ثواب مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا۔)
اور اس کا رزق اسے ملتا رہے گا۔
اور وہ آزمائش سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل، حدیث: 163)
فوائد و مسائل:
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن جریج ہے۔
اس سے غلطی ہوئی ہے یا ابراہیم بن محمد بن ابو عطاء نے غلطی کی ہے۔
اس لئے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔
اصل میں یہ فضیلت جہاد کے موقع پر سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کےلئے ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
ایک دن رات سرحد پرٹھرنا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔
اور اگر وہ (محاذ پر ٹھرنے کے دوران میں)
فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا۔
جو وہ کرتا تھا۔ (اس عمل کا ثواب مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا۔)
اور اس کا رزق اسے ملتا رہے گا۔
اور وہ آزمائش سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل، حدیث: 163)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1615]
Sunan Ibn Majah Hadith 1615 in Urdu
موسى بن وردان القرشي ← أبو هريرة الدوسي