🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. بَابُ : ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُوا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ يَضْرَحُ كَضَرِيحِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَبَعَثُوا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَكَانَ هُوَ الَّذِي يَحْفِرُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَلْحَدُ، فَبَعَثُوا إِلَيْهِمَا رَسُولَيْنِ، وَقَالُوا: اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ، فَوَجَدُوا أَبَا طَلْحَةَ، فَجِيءَ بِهِ وَلَمْ يُوجَدْ أَبُو عُبَيْدَةَ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَالًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا النِّسَاءَ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا الصِّبْيَانَ، وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ، لَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُسْلِمُونَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُحْفَرُ لَهُ، فَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ فِي مَسْجِدِهِ، وَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ"، قَالَ: فَرَفَعُوا فِرَاشَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ عَلَيْهِ، فَحَفَرُوا لَهُ، ثُمَّ دُفِنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ اللَّيْلِ مِنْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ، وَنَزَلَ فِي حُفْرَتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ أَخُوهُ، وَشُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ وَهُوَ أَبُو لَيْلَى لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: انْزِلْ وَكَانَ شُقْرَانُ مَوْلَاهُ أَخَذَ قَطِيفَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَدَفَنَهَا فِي الْقَبْرِ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَلْبَسُهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ أَبَدًا، فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے، (مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1628]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر تیار کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا، وہ مکہ والوں کے رواج کے مطابق صندوقی (شق والی) قبر بناتے تھے، اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی پیغام بھیجا، وہ مدینہ والوں کی قبریں تیار کیا کرتے تھے اور بغلی (لحد والی) قبر بناتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان دونوں حضرات کی طرف دو (الگ الگ) آدمیوں کو بھیجا اور کہا: «اللّٰهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ» ”اے اللہ! اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر صورت مہیا فرما۔“ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہیں (قبر تیار کرنے کے لیے) لے آیا گیا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ (گھر پر) نہ ملے۔ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی (لحد والی) قبر تیار کی۔ منگل کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے فراغت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسد مبارک) کو آپ کے حجرہٴ مبارک میں آپ کی چارپائی پر لٹا دیا گیا۔ لوگ گروہ در گروہ اندر داخل ہوتے تھے اور نماز جنازہ ادا کرتے۔ جب مرد فارغ ہو گئے تو خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ جب ان سے فراغت ہوئی تو بچوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کے لیے کسی نے لوگوں کی امامت نہیں کی۔ (اس کے بعد) مسلمانوں میں اس معاملے میں اختلافِ رائے پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کہاں تیار کی جائے۔ کچھ حضرات نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد نبوی میں دفن کیا جائے۔“ کچھ حضرات نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے ساتھ (بقیع کے قبرستان میں) دفن کیا جائے۔“ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا ہے: «مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ» ”جو بھی نبی فوت ہوا، وہ جہاں فوت ہوا، وہیں دفن ہوا۔““ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کی وفات ہوئی تھی اور (اس مقام پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تیار کی، پھر بدھ کی رات، آدھی رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین عمل میں آئی۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، ان کے بھائی حضرت قثم رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت شقران رضی اللہ عنہ قبر میں اترے۔ حضرت ابو لیلیٰ اوس بن خولی رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کو اللہ کا واسطہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے تعلق کا واسطہ!“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ بھی (قبر میں) اتر آئیں۔“ شقران رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ چادر تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے وہ چادر بھی قبر میں دفن کر دی اور کہا: ”اللہ کی قسم! آپ کے بعد یہ چادر کبھی کوئی دوسرا شخص استعمال نہیں کرے گا۔“ چنانچہ وہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی دفن ہوئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6022، ومصباح الزجاجة: 591)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/8، 260، 292) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حسین بن عبد اللہ متروک ہے، لیکن شقاق اور لاحد کا قصہ ثابت ہے، اور ایسے ہی «مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ» کا لفظ ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: 137- 138)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن قصة الشقاق واللاحد ثابتة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسين بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 1326)
وقال الھيثمي: وھو متروك ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 60/5)
وقال البيهقي: ضعفه أكثر أصحاب الحديث (السنن الكبري 10/ 346)
ودفن الأنبياء حيث قبضوا صحيح،انظر سنن الترمذي (1018)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكرصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو بكر الصديق
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥الحسين بن عبد الله الهاشمي، أبو عبد الله
Newالحسين بن عبد الله الهاشمي ← عكرمة مولى ابن عباس
ضعيف الحديث
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← الحسين بن عبد الله الهاشمي
صدوق مدلس
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1628
ما قبض نبي إلا دفن حيث يقبض
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1628 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1628
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مذید لکھا ہے کہ اس ر وایت میں صرف یہ جملہ (ما قبض نبي الا دفن حيث يقبض)
جو بھی نبی فوت ہوا۔
وہ جہاں فوت ہوا وہیں دفن ہوا صحیح ہے کیونکہ جامع ترمذی (1018)
اور ابن سعد (2/292)
وغیرہ میں اس کے بہت سے شواہد ہیں۔
جنھیں محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
لہذا مذکورہ روایت میں صرف یہی جملہ صحیح ہے۔
تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا صحیح واقعہ حدیث 1557۔ 1558۔
میں گزر چکا ہے۔
وہاں ملاحظہ فرمایئں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1628]

Sunan Ibn Majah Hadith 1628 in Urdu