سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حدیث نمبر: 1627
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، عِنْدَ امْرَأَتِهِ ابْنَةِ خَارِجَةَ بِالْعَوَالِي، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْيِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَقَالَ: أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ قَدْ، وَاللَّهِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ كَثِيرٍ، وَأَرْجُلَهُمْ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَمْ يَمُتْ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144"، قَالَ عُمَرُ: فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ۱؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، (پھر یہ آیت پڑھی): «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين» (سورة آل عمران: 144) ”محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا“۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1627]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ عوالی میں اپنی زوجہ محترمہ خارجہ کی بیٹی کے ہاں تشریف فرما تھے۔ بعض افراد نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے، یہ تو اس سے ملتی جلتی کیفیت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے موقع پر طاری ہوا کرتی تھی۔“ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہٴ اقدس سے کپڑا ہٹایا اور دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانئ مبارک پر) بوسہ دیا اور فرمایا: ”اللہ کے ہاں آپ کی شان اتنی بلند ہے کہ وہ آپ پر دوبار موت طاری نہیں کرے گا، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔“ (اس وقت) حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک حصے میں فرما رہے تھے: ”قسم ہے اللہ کی! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک بہت سے منافقوں کے ہاتھ پاؤں نہیں کاٹ دیتے۔“ ابو بکر رضی اللہ عنہ اٹھ کر منبر پر چلے گئے اور فرمایا: ”جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے، فوت نہیں ہوا، اور جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو (اس کے معبود) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وفات ہو گئی۔“ (اور یہ آیت پڑھی:) ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ [سورة آل عمران: 144] ”اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ تو اگر وہ فوت ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کرے گا۔ اور شکر گزاروں کو اللہ جزا دے گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (بعد میں) فرمایا: ”مجھے تو (ابو بکر سے یہ آیت سن کر) یوں محسوس ہوا تھا، گویا میں نے (یہ آیت) اسی دن پڑھی ہے (گویا پہلے کبھی پڑھی یا سنی ہی نہیں۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 3 (1241)، المغازي 83 (4452)، سنن النسائی/الجنائز 11 (1842)، (تحفة الأشراف: 6632)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/117) (صحیح)» (البانی صاحب کہتے ہیں کہ وحی کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ کہہ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا رد کیا جو کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر دنیا میں لوٹ کر آئیں گے، اور منافقوں کے ہاتھ پیر کاٹیں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے بعد پھر وفات ہو گی، اس طرح دو موتیں جمع ہو جائیں گی۔ اور بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ ہو گی، ایک دنیا کی موت تھی جو ہر بشر کو لازم تھی وہ آپ کو بھی ہوئی نیز اس کے بعد پھر آپ کو راحت ہی راحت ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ آپ کا نام اور آپ کا دین ہمیشہ قائم رہے گا،کبھی ختم ہونے والا نہیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کا بوسہ لینا جائز ہے، اور میت کو موت کے بعد ایک چادر سے ڈھانپ دینا چاہئے تاکہ لوگ اس کی صورت دیکھ کر گھبرائیں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة الوحي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن أبي بكر المليكي: ضعيف
وأصل الحديث صحيح
أخرجه البخاري (1241،1242) وغيره نحوه بإختلاف يسير
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن أبي بكر المليكي: ضعيف
وأصل الحديث صحيح
أخرجه البخاري (1241،1242) وغيره نحوه بإختلاف يسير
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُوا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ يَضْرَحُ كَضَرِيحِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَبَعَثُوا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَكَانَ هُوَ الَّذِي يَحْفِرُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَلْحَدُ، فَبَعَثُوا إِلَيْهِمَا رَسُولَيْنِ، وَقَالُوا: اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ، فَوَجَدُوا أَبَا طَلْحَةَ، فَجِيءَ بِهِ وَلَمْ يُوجَدْ أَبُو عُبَيْدَةَ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَالًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا النِّسَاءَ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا الصِّبْيَانَ، وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ، لَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُسْلِمُونَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُحْفَرُ لَهُ، فَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ فِي مَسْجِدِهِ، وَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ"، قَالَ: فَرَفَعُوا فِرَاشَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ عَلَيْهِ، فَحَفَرُوا لَهُ، ثُمَّ دُفِنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ اللَّيْلِ مِنْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ، وَنَزَلَ فِي حُفْرَتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ أَخُوهُ، وَشُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ وَهُوَ أَبُو لَيْلَى لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: انْزِلْ وَكَانَ شُقْرَانُ مَوْلَاهُ أَخَذَ قَطِيفَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَدَفَنَهَا فِي الْقَبْرِ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَلْبَسُهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ أَبَدًا، فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے، (مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1628]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر تیار کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا، وہ مکہ والوں کے رواج کے مطابق صندوقی (شق والی) قبر بناتے تھے، اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی پیغام بھیجا، وہ مدینہ والوں کی قبریں تیار کیا کرتے تھے اور بغلی (لحد والی) قبر بناتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان دونوں حضرات کی طرف دو (الگ الگ) آدمیوں کو بھیجا اور کہا: «اللّٰهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ» ”اے اللہ! اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر صورت مہیا فرما۔“ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہیں (قبر تیار کرنے کے لیے) لے آیا گیا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ (گھر پر) نہ ملے۔ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی (لحد والی) قبر تیار کی۔ منگل کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے فراغت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسد مبارک) کو آپ کے حجرہٴ مبارک میں آپ کی چارپائی پر لٹا دیا گیا۔ لوگ گروہ در گروہ اندر داخل ہوتے تھے اور نماز جنازہ ادا کرتے۔ جب مرد فارغ ہو گئے تو خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ جب ان سے فراغت ہوئی تو بچوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کے لیے کسی نے لوگوں کی امامت نہیں کی۔ (اس کے بعد) مسلمانوں میں اس معاملے میں اختلافِ رائے پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کہاں تیار کی جائے۔ کچھ حضرات نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد نبوی میں دفن کیا جائے۔“ کچھ حضرات نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے ساتھ (بقیع کے قبرستان میں) دفن کیا جائے۔“ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا ہے: «مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ» ”جو بھی نبی فوت ہوا، وہ جہاں فوت ہوا، وہیں دفن ہوا۔““ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کی وفات ہوئی تھی اور (اس مقام پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تیار کی، پھر بدھ کی رات، آدھی رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین عمل میں آئی۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، ان کے بھائی حضرت قثم رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت شقران رضی اللہ عنہ قبر میں اترے۔ حضرت ابو لیلیٰ اوس بن خولی رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کو اللہ کا واسطہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے تعلق کا واسطہ!“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ بھی (قبر میں) اتر آئیں۔“ شقران رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ چادر تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے وہ چادر بھی قبر میں دفن کر دی اور کہا: ”اللہ کی قسم! آپ کے بعد یہ چادر کبھی کوئی دوسرا شخص استعمال نہیں کرے گا۔“ چنانچہ وہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی دفن ہوئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6022، ومصباح الزجاجة: 591)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/8، 260، 292) (ضعیف)» (سند میں حسین بن عبد اللہ متروک ہے، لیکن شقاق اور لاحد کا قصہ ثابت ہے، اور ایسے ہی «مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ» کا لفظ ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: 137- 138)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن قصة الشقاق واللاحد ثابتة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسين بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 1326)
وقال الھيثمي: وھو متروك ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 60/5)
وقال البيهقي: ضعفه أكثر أصحاب الحديث (السنن الكبري 10/ 346)
ودفن الأنبياء حيث قبضوا صحيح،انظر سنن الترمذي (1018)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
الحسين بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 1326)
وقال الھيثمي: وھو متروك ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 60/5)
وقال البيهقي: ضعفه أكثر أصحاب الحديث (السنن الكبري 10/ 346)
ودفن الأنبياء حيث قبضوا صحيح،انظر سنن الترمذي (1018)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
حدیث نمبر: 1629
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَا كَرْبَ أَبَتَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ، إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ مِنْ أَبِيكِ مَا لَيْسَ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا الْمُوَافَاةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ۱؎، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1629]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے وقت گھبراہٹ (یا تکلیف) محسوس ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہائے ابا جان کی تکلیف!“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد تیرے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی! تیرے والد کو وہ چیز (موت) پیش آگئی ہے جس سے کسی کو چھٹکارا نہیں، قیامت کے روز ملاقات ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 450، ومصباح الزجاجة: 592)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 83 (4448)، مسند احمد (3/141) (حسن صحیح) (سند میں عبد اللہ بن الزبیر مقبول ہیں، اور مسند احمد میں مبارک بن فضالہ نے ان کی متابعت کی ہے، اصل حدیث صحیح البخاری میں ہے، صحیح البخاری میں: «إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ» کا جملہ نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1738)»
وضاحت: ۱؎: فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ نوحہ میں داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب آپ ابھی زندہ تھے، اور جان کنی کے عالم میں تھے جیسا کہ اس سے پہلے کی روایت سے ظاہر ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ میت میں جو خوبیاں فی الواقع موجود رہی ہوں ان کو بیان کرنا نوحہ نہیں ہے، بلکہ نوحہ میت میں ایسی خوبیاں ذکر کرنے کا نام ہے جو اس میں نہ رہی ہوں۔ ۲؎: حالانکہ ملاقات مرنے کے بعد ہی عالم برزخ میں ہو جاتی ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ ملاقات سے دنیا کی طرح ہر وقت کی یکجائی اور سکونت مراد ہو اور یہ قیامت کے بعد ہی جنت میں ہو گی جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں تشریف لے گئے، علی رضی اللہ عنہ کو سوتا پایا، ارشاد ہوا کہ یہ سونے والا، اور میں اور تو جنت میں ایک مکان میں ہوں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ کا درجہ آخرت میں بہت بلند ہو گا کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مکان میں رہیں گے، اور ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام جنت الفردوس میں سب سے بلند ہو گا، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1630
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال: قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ:" يَا أَنَسُ كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟". (حديث موقوف) (حديث موقوف) وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ"، قَالَ حَمَّادٌ: فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلَاعَهُ تَخْتَلِفُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1630]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”انس! تمہارے دلوں نے یہ کیسے گوارا کیا کہ تم اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جسدِ اطہر) پر مٹی ڈال دو؟““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 83 (4448)، (تحفة الأشراف: 302)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 14 (88) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ کی پیش گوئی کے مطابق ہو گیا، اور چہیتی بیٹی اپنے باپ سے جا ملیں، اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو یہ کلمات سخت رنج کی حالت میں فرمائے یہ نیاحت میں داخل ہیں جب کہ وہ منع ہے واضح رہے کہ نیاحت وہ ہے جو چلا کر بلند آواز سے ہو، نہ وہ جو آہستہ سے کہا جائے، اور اگر یہ نیاحت ہوتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے ہرگز نہ کرتیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1631
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا نَفَضْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِيَ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1631]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، مدینہ کی ہر چیز تاریک ہو گئی۔ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر کے اپنے ہاتھ جھاڑے تو اسی وقت ہمیں اپنے دلوں کی حالت بدلی ہوئی محسوس ہوئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 1 (3618)، (تحفة الأشراف: 268)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 14 (89) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ، وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1632]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم اپنی عورتوں سے بات کرتے ہوئے اور بے تکلفی کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے، اس ڈر سے کہ قرآن (میں ہماری کسی غلطی پر تنبیہ والا فرمان) نازل ہو جائے گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ہم (ہر قسم کی) باتیں کرنے لگے۔ (اس درجے کی احتیاط نہ رہی۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 80 (5187)، (تحفة الأشراف: 7156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1633
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا وَجْهُنَا وَاحِدٌ، فَلَمَّا قُبِضَ نَظَرْنَا هَكَذَا وَهَكَذَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1633]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہم لوگوں کی توجہ ایک ہی (آخرت کی) طرف ہوتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو ادھر اُدھر (کوئی دنیا کو اور کوئی آخرت کو) دیکھنے لگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11، ومصباح الزجاجة: 593) (ضعیف)» (اس کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز اس سند میں حسن بصری اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إن كان الحسن سمعه من أبي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه كما في تحفة الأشراف(12/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه كما في تحفة الأشراف(12/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِي مُحَمَّدُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي، لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ جَبِينِهِ، فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ عُمَرُ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالًا".
ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1634]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بنت ابی امیہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جب آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر قدموں سے آگے نہ بڑھتی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر اس کی پیشانی رکھنے کی جگہ (سجدے کی جگہ) سے آگے نہیں بڑھتی تھی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ) مقرر ہو گئے تو لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلے کی طرف سے نہیں ہٹتی تھی، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (خلیفہ) مقرر ہوئے تو (ان کے دورِ حکومت میں) فتنہ برپا ہوا اور (فتنے کے اس دور میں) لوگ (نماز میں) دائیں بائیں جھانکنے لگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18213، ومصباح الزجاجة: 594) (ضعیف)» (اس کی سند میں موسیٰ بن عبداللہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبد اللّٰه: مجهول (تقريب: 6982)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
موسي بن عبد اللّٰه: مجهول (تقريب: 6982)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا"، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا:" مَا يُبْكِيكِ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ؟"، قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، قَالَ: فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (برکہ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1635]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحلت فرما جانے کے بعد (ایک بار) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چلیے ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ہاں چلیں اور ان سے ملاقات کر آئیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب ہم لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کے) اشک بار ہو گئیں۔“ دونوں حضرات نے فرمایا: ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (دنیا کی متاع اور آسائشوں سے کہیں) بہتر ہے۔“ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر ہے لیکن میں تو اس لیے روتی ہوں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے) آسمان سے وحی آنا بند ہو گئی ہے۔“ ان کی اس بات سے شیخین رضی اللہ عنہما کو بھی رونا آ گیا اور وہ بھی رونے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18302، ومصباح الزجاجة: 595) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ذرہ برابر بھی انحراف کرنا گوارا نہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں سے ملنے جاتے ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان سے ملنے گئے، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت گویا زمانہ نبوت کی تصویر تھی اور یہی وجہ تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک اور بنو نضیر وغیرہ سے حاصل مال کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طلب پر ان کے حوالہ نہیں کیا بلکہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال کو خرچ کرتے تھے اسی طرح خرچ کرتے رہے، اور ذرہ برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ کار کو بدلنا گوارا نہ کیا، اصل بات یہ ہے، نہ وہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے «معاذ اللہ» طمع ولالچ سے ایسا کیا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف پہنچائی، یہ سب لغو اور بیہودہ الزام ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ دنیا کی ایک بڑی حکومت کے سربراہ تھے، خود انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا سارا مال نچھاور کر دیا، اور آپ کی محبت میں جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ کھجور کے چند درختوں کو ناحق لے لے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ناراض کرے گا؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ، يَعْنِي: بَلِيتَ؟، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود (صلاۃ و سلام) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1636]
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کا دن تمہارے افضل ایام میں سے ہے۔ اسی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن (قیامت کی) بے ہوشی ہوگی، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیوں کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! جب آپ کا جسدِ اطہر خاک ہو جائے گا تب ہمارا درود کیسے آپ پر پیش کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 207 (1047)، 361 (1531)، سنن النسائی/الجمعة 5 (1375)، (تحفة الأشراف: 1736)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8)، سنن الدارمی/الصلاة 206 (1613) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1047،1531) نسائي (1375) وانظر الحديث السابق (1085)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1047،1531) نسائي (1375) وانظر الحديث السابق (1085)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438