🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب : ذكر وفاته ودفنه صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَا كَرْبَ أَبَتَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ، إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ مِنْ أَبِيكِ مَا لَيْسَ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا الْمُوَافَاةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ۱؎، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 450، ومصباح الزجاجة: 592)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 83 (4448)، مسند احمد (3/141) (حسن صحیح) (سند میں عبد اللہ بن الزبیر مقبول ہیں، اور مسند احمد میں مبارک بن فضالہ نے ان کی متابعت کی ہے، اصل حدیث صحیح البخاری میں ہے، صحیح البخاری میں: «إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ» کا جملہ نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1738)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ نوحہ میں داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب آپ ابھی زندہ تھے، اور جان کنی کے عالم میں تھے جیسا کہ اس سے پہلے کی روایت سے ظاہر ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ میت میں جو خوبیاں فی الواقع موجود رہی ہوں ان کو بیان کرنا نوحہ نہیں ہے، بلکہ نوحہ میت میں ایسی خوبیاں ذکر کرنے کا نام ہے جو اس میں نہ رہی ہوں۔ ۲؎: حالانکہ ملاقات مرنے کے بعد ہی عالم برزخ میں ہو جاتی ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ ملاقات سے دنیا کی طرح ہر وقت کی یکجائی اور سکونت مراد ہو اور یہ قیامت کے بعد ہی جنت میں ہو گی جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں تشریف لے گئے، علی رضی اللہ عنہ کو سوتا پایا، ارشاد ہوا کہ یہ سونے والا، اور میں اور تو جنت میں ایک مکان میں ہوں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ کا درجہ آخرت میں بہت بلند ہو گا کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مکان میں رہیں گے، اور ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام جنت الفردوس میں سب سے بلند ہو گا، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن الزبير الباهلي، أبو معبد، أبو الزبير
Newعبد الله بن الزبير الباهلي ← ثابت بن أسلم البناني
صدوق حسن الحديث
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← عبد الله بن الزبير الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4462
ليس على أبيك كرب بعد اليوم
سنن ابن ماجه
1629
لا كرب على أبيك بعد اليوم إنه قد حضر من أبيك ما ليس بتارك منه أحدا الموافاة يوم القيامة
المعجم الصغير للطبراني
361
لما قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : يا أبتاه من ربه أدناه ، يا أبتاه جنة الفردوس مأواه ، يا أبتاه إلى جبريل أنعاه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1629 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1629
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب کسی کا آخری وقت ہو تو اس کے پاس موجود افراد کو رونا منع نہیں بشرط یہ کہ وہ طبعی ہو۔
زمانہ جاہلیت کی طرح مصنوعی نہ ہو۔

(2)
مومن کےلئے یہ چیز تسلی کا باعث ہے کہ موت کی شدت کے بعد ہمیشہ کی راحت ہے۔

(3)
جب بیمار کی حالت دیکھ کر احباب واقارب پریشانی محسوس کریں۔
تو مریض کو چاہیے کہ انھیں تسلی دے۔
اسی طرح اگر مریض پریشان ہو تو عیادت کرنے والوں کو چاہیے کہ اسے تسلی دیں۔

(4)
موت ایک ایسا مرحلہ ہے۔
جس سے ہر شخص کو لازماً گزرنا ہے۔
لیکن احباب سے یہ جدائی عارضی ہے۔
کیونکہ اللہ کے پاس ملاقات ہوجائے گی۔

(5)
قیامت سے پہلے فوت ہونے والوں کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوسکتی ہے۔
لیکن اصل ملاپ جس کے بعد جدائی کا خطرہ نہیں وہ تو قیامت ہی کو حاصل ہوگا۔

(6)
نبی کی وفات اور تدفین کی واضح صراحتوں کے بعد بھی آپ کی بابت یہ دعویٰ کرنا کہ آپ قبر میں بالکل اسی طرح زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ حقیقی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔
بڑی ہی عجیب بات ہے۔
ہاں آپ کو برزخی زندگی یقیناً حاصل ہے لیکن وہ کیسی ہے؟ اس کی نوعیت وکیفیت کو ہم جانتے ہیں۔
نہ جان ہی سکتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1629]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4462
4462. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہوئے اور آپ پر غشی طاری ہوئی تو سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے کہا: ہائے میرے والد کو سخت تکلیف ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ! آج کے بعد تمہارے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو سیدہ فاطمہ نے فرمایا: اے میرے ابا جان! جس نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کر لیا۔ اے میرے ابوجان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔ اے والد گرامی! ہم حضرت جبرئیل ؑ کو آپ کے انتقال کی خبر دیتے ہیں۔ پھر جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے حضرت انس ؓ سے فرمایا: اے انس! تمہارے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالنے کے لیے کیونکر آمادہ ہوئے تھے؟ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4462]
حدیث حاشیہ:

حضرت فاطمہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کہا تھا:
ہائے میرے والد کو سخت تکلیف ہے۔
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ موت کے قریب میت کے لیے اظہار غم و حزن جائز ہے اور وفات کے بعد بھی میت کے ایسے وصاف ذکر کرنے جائز ہیں جو موصوف میں پائے جاتے ہوں جیسا کہ حضرت فاطمہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کیے جن سے آپ متصف تھے۔

اگرچہ حضرت جبرئیل ؑ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بخوبی علم تھا مگر اس کلام سے حسرت وافسوس کا اظہار کرنا مقصود ہے۔
شریعت میں وہ نوحہ ممنوع ہے جس میں رونے والا میت کے ایسے اوصاف ذکر کرے جو اس میں نہیں پائے جاتے یا وہ مبالغہ آمیزی سے کام لے جیسا کہ دور جاہلیت میں کیا جاتا تھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4462]