🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : ما جاء في صيام الدهر
باب: ہمیشہ روزے رکھنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1705
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے نہ تو روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1705]
حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصیام 42 (2382)، (تحفة الأشراف: 5350)، مسند احمد (4/25)، سنن الدارمی/الصوم 37 (1785) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن الشخير الحرشيصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن الشخير الحرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← أبو داود الطيالسي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
👤←👥عبيد بن سعيد الأموي، أبو محمد
Newعبيد بن سعيد الأموي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبيد بن سعيد الأموي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2382
لا صام ولا أفطر
سنن النسائى الصغرى
2383
لا صام ولا أفطر
سنن ابن ماجه
1705
من صام الأبد فلا صام ولا أفطر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1705 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1705
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عبادت میں شرعی حد سے تجا وز کرنا منع ہے
(2)
ہمیشہ روزہ رکھنا منع ہے۔

(3)
نہ روزہ رکھا نہ افطار کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے روزہ رکھنے کا ثواب ملا نہ روزہ چھوڑنے کا آرام نصیب ہوا گو یا نہ آخروی نہ روحا نی فا ئدہ حاصل ہوا اور نہ دنیوی اور نہ جسمانی فائدہ حاصل ہوا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے وہ صورت بن سکتی ہے کہ نیکی برباد گنا لازم۔

(4)
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص عیدین اور ایا م تشریق کے روزے نہ رکھے باقی گیارہ مہینے پچیس دن روزے رکھتا ہے تو یہ شخص ہمیشہ روزے رکھنے والا شمار ہو گا کیونکہ اس نے سال میں پا نچ دن روزے نہیں رکھے لیکن غور کیا جائے تو اس عمل سے اس ممانعت کا مقصد ہی فو ت ہو جاتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیشہ روزے رکھنے شروع کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان سے منع فرما دیا ان کی بار بار کی درخوا ست پر زیادہ سے زیادہ جو اجازت دی وہ داؤد علیہ السلام والے روزے کی تھی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں اس سے افضل عمل کی طا قت رکھتا ہوں یعنی اس سے زیا دہ روزے رکھ سکتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا (لَااَفْضَل مِنْ ذٰلِكَ)
 اس سے کوئی افضل نہیں۔ (صحیح البخاري، الصوم، باب صوم الدھر، حدیث: 1967)
 اس سے معلوم ہو تا ہے کہ سال میں گیارہ مہینے پچیس دن روزے رکھنے والے کو بھی اتنا ثواب نہیں مل سکتا جتنا صوم داؤد رحمۃ اللہ علیہ رکھنے والے کو ملتا ہے لہٰذا اگر عیدین اور ایا م تشریق کو چھوڑ کر سارا سال روزے رکھنے جا ئز بھی مان لیا جائے تو کم محنت کے سا تھ زیادہ ثوا ب حا صل کرنا بہتر ہے نہ کہ زیا دہ محنت کر کے کم ثواب حا صل کرنا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1705]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2383
صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صیام الدھر رکھنے والے کے بارے میں فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2383]
اردو حاشہ:
نہ رکھا اور نہ چھوڑا۔ چھوڑا تو حقیقتاً نہیں، رکھا اس لیے نہیں کہ شریعت کی نافرمانی کی، ثواب نہ ملا گویا نہ رکھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2383]

Sunan Ibn Majah Hadith 1705 in Urdu