🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب : صيام يوم عرفة
باب: عرفہ کے دن کا روزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ؟، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ".
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے گھر ملنے گیا تو ان سے عرفات میں عرفہ کے روزے کے سلسلے میں پوچھا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 63 (2440)، (تحفة الأشراف: 14253)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/304، 446) (ضعیف) (نیزملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 421)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥مهدي بن أبي مهدي العبدي
Newمهدي بن أبي مهدي العبدي ← عكرمة مولى ابن عباس
مقبول
👤←👥حوشب بن عقيل الجرمي، أبو دحية
Newحوشب بن عقيل الجرمي ← مهدي بن أبي مهدي العبدي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← حوشب بن عقيل الجرمي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2440
صوم يوم عرفة بعرفة
سنن ابن ماجه
1732
عن صوم يوم عرفة بعرفات
بلوغ المرام
566
نهى عن صوم يوم عرفة بعرفة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1732 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1732
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ حدیث میں یوم عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت ثابت ہو رہی ہے لیکن یہ حجاج کرام کے ساتھ خاص ہے کہ آپ نے حا جیوں کو اس دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے جیسے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ (صحیح البخاري، الصوم، باب صوم یوم عرفة، حدیث: 1988)
 نیز حجاج کو عرفات کا وقوف اور اس اثنا میں دعا و مناجات میں مشغول رہنا ہوتا ہے اس لئے یہ عمل روزے کی نسبت اولیٰ ہے غیر حاجی کے لئے اس روزے کی فضیلت گزشتہ احادیث سے ثابت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1732]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 566
نفلی روزے اور جن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسے ترمذی کے علاوہ باقی پانچوں نے روایت کیا ہے۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اور امام حاکم رحمہ اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا ہے اور امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے منکر کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 566]
566 فوائد و مسائل:
➊ اسے امام عقیلی رحمہ اللہ نے منکر اس لیے کہا ہے کہ اس کے راوی حوشب بن عقیل نے یہ حدیث مہدی بن حرب ہجری سے روایت کی ہے۔ عقیلی نے کہا ہے کہ حوشب کی کسی نے بھی متابعت نہیں کی۔ اور اس سے بیان کرنے والا راوی بھی مختلف فیہ ہے۔ مگر یہ اعتراض کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ حوشب کو اکثر محدثین رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا فیصلہ بھی تقریب التھذیب میں یہی ہے کہ وہ ثقہ ہے، البتہ مہدی ہجری کے بارے میں امام ابن معین نے کہا ہے کہ میں اسے جانتا۔ لیکن امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی حدیث کو صحیح کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے تلخیص الستدرک میں ان کی تائید کی ہے۔ اور اسے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے اور ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقات میں ذکر کیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقبول کہا ہے۔ اور اس سے بیان کرنے والا راوی حوشب بن عبدل ہے جسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب التھذیب میں ثقہ کہا ہے۔
➋ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عرفات میں حاجی کو یوم عرفہ کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ امام یحییٰ بن سعید انصاری کا یہی موقف ہے۔ اس کی تائید سنن نسائی، وغیرہ میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے: یوم عرفہ ہماری عید کا دن ہے۔ یعنی اہل عرفہ کے لیے یہ دن کا ہے۔ [سنن النسائي الحج، باب النهي عن صوم، يوم عرفة، حديث: 3007]
اس لیے انہیں اس دن روزہ رکھنے کی ممانعت ہے، البتہ جمہور کے نزدیک روزہ نہ رکھنا مستحب ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حجتہ الوداع کے موقع پر یوم عرفہ کا روزہ نہیں رکھا تھا۔ ٭
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 566]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2440
عرفہ کے دن عرفات میں روزے کی ممانعت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2440]
فوائد ومسائل:
(1) ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو، جس دن وقوف عرفات ہوتا ہے، یوم عرفہ کہتے ہیں۔

(2) یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس لیے اس سے ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔
البتہ چونکہ حجاج کو عرفات کا وقوف اور اس اثنا میں دعا و مناجات میں مشغول رہنا ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے یہ عمل روزے کی نسبت اولیٰ ہے۔
غیر حاجی کے لیے اس روزے کی فضیلت ثابت ہے جو پیچھے بیان ہو چکی ہے۔
(حدیث:2425)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2440]

Sunan Ibn Majah Hadith 1732 in Urdu