🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب : صيام أشهر الحرم
باب: حرمت والے مہینوں کا روزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1741
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ، قَالَ:" فَمَا لِي أَرَى جِسْمَكَ نَاحِلًا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِالنَّهَارِ مَا أَكَلْتُهُ إِلَّا بِاللَّيْلِ، قَالَ:" مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَقْوَى، قَالَ:" صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمًا بَعْدَهُ"، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ:" صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمَيْنِ بَعْدَهُ"، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ:" صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ، وَصُمْ أَشْهُرَ الْحُرُمِ".
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے ۱؎ کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1741]
ابو مجیبہ باہلی رحمہ اللہ اپنے والد یا چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو پچھلے سال آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہارے جسم کو کمزور دیکھتا ہوں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے کبھی دن کے وقت کھانا نہیں کھایا (ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں) صرف رات کو کھانا کھاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کس نے اپنی جان کو عذاب میں ڈالنے کا حکم دیا ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں طاقت رکھتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کے مہینے (رمضان) کے روزے رکھ اور اس کے بعد ایک دن روزہ رکھ لے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہ صبر کے روزے رکھ اور اس کے بعد دو روزے (نفلی) رکھ لے۔ میں نے کہا: میں زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہ صبر کے روزے رکھ اور اس کے بعد تین دن (اور روزے رکھ لے) اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 54 (2428)، (تحفة الأشراف: 5240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/28) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابومجیبہ مجہول ہے، نیز بعض روایات میں مجیبہ الباہلیہ ہے، نام میں اختلاف کے ساتھ جہالت بھی ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، نیزملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 419)
وضاحت: ۱؎: صبر کے مہینے سے مراد صیام کا مہینہ (رمضان) ہے، صبر کے اصل معنی روکنے کے ہوتے ہیں، چونکہ اس مہینہ میں روزہ دار اپنے آپ کو دن میں کھانے پینے اور جماع سے روکے رکھتا ہے اس لیے اسے «شہر الصبر» (صبر کا مہینہ) کہا گیا ہے۔
۲؎: حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں ذی الحجہ اور محرم کے مہینے ہیں، ویسے حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذو العقدہ، ذوالحجۃ و محرم۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2428)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عبد الله بن الحارث الباهلي، أبو مجيبة
Newعبد الله بن الحارث الباهلي ← اسم مبهم
صحابي
👤←👥ضريب بن نقير الجريري، أبو السليل
Newضريب بن نقير الجريري ← عبد الله بن الحارث الباهلي
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← ضريب بن نقير الجريري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2428
صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك وقال بأصابعه الثلاثة فضمها ثم أرسلها
سنن ابن ماجه
1741
صم شهر الصبر وثلاثة أيام بعده وصم أشهر الحرم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1741 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1741
اردو حاشہ:
فائدہ:
حرمت والے مہینے یہ ہیں ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، ارشاد باری تعالی ہے ﴿إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّـهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِى كِتَـٰبِ ٱللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ﴾  (التوبة: 36/9)
 بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی با رہ مہینے ہی ہیں اللہ کی کتا ب میں، جس دن سے اس نے آسمانو ں اور زمین کو پیدا کیا ان میں سے چا ر مہینے حر مت والے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1741]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2428
حرمت والے مہینوں کے روزے کا بیان۔
مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہو؟ جواب دیا: میں باہلی ہوں جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟ جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ کو تم نے عذاب میں ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2428]
فوائد ومسائل:
سال میں چار مہینے حرمت والے ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔
قرآن مجید میں ہے: (إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ‌ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ‌ شَهْرً‌ۭا فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضَ مِنْهَآ أَرْ‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ) (التوبة: 36) اللہ عزوجل کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں، جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔
ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2428]

Sunan Ibn Majah Hadith 1741 in Urdu