سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : تعجيل الزكاة قبل محلها
باب: وقت سے پہلے زکاۃ نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1795
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ؟" فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 21 (1624)، سنن الترمذی/الزکاة 37 (678)، (تحفة الأشراف: 10063)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/104)، سنن الدارمی/الزکاة 12 (1687) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1624) ترمذي (678)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1624) ترمذي (678)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
678
| تعجيل صدقته قبل أن تحل فرخص له في ذلك |
سنن أبي داود |
1624
| تعجيل صدقته قبل أن تحل فرخص له في ذلك قال مرة فأذن له في ذلك |
سنن ابن ماجه |
1795
| تعجيل صدقته قبل أن تحل فرخص له في ذلك |
بلوغ المرام |
493
| تعجيل صدقته قبل ان تحل فرخص له في ذلك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1795 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1795
اردو حاشہ:
فائدہ:
پیشگی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ سال پورا ہونے سے پہلے زکاۃ ادا کر دی جائے۔
وقت آنے پر حساب کر کے کمی بیشی پوری کر لی جائے۔
یہ جائز ہے۔
بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت حسن ہے۔
فائدہ:
پیشگی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ سال پورا ہونے سے پہلے زکاۃ ادا کر دی جائے۔
وقت آنے پر حساب کر کے کمی بیشی پوری کر لی جائے۔
یہ جائز ہے۔
بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت حسن ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1795]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 493
پیشگی زکاۃ وصول کرنے کا بیان
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آیا زکوٰۃ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ادا ہو سکتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 493]
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آیا زکوٰۃ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ادا ہو سکتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 493]
لغوی تشریح:
«قَبُلَ اَّنَ تُخِلَّ» مقررہ وقت آنے سے پہلے۔ «حلول» سے ماخوذ ہے، باب «ضَرَبَ يَضْرِبُ» ہے، یعنی سائل نے پوچھا کہ کیا زکاۃ، سال گزرے اور وقت مقررہ آنے سے پہلے ادا کر سکتی ہے یا نہیں؟
فوائد و مسائل:
زکاۃ اگرچہ اپنے وقت پر، یعنی سال گزرنے کے بعد ہی واجب ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شدید ضرورت ہو تو اصحاب حیثیت لوگوں سے پیشگی زکاۃ بھی لی جا سکتی ہے، اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد دو سال ہے، یعنی دو سال کی پیشگی زکاۃ لی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں کیونکہ جس واقعے سے پیشگی زکاۃ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر دو سال کی زکاۃ پیشگی وصول فرما لی تھی۔ اس کی طرف اشارہ صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب احادیث کی روایات سے ملتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بابت فرمایا: ”ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اس کی مثل اس کے ساتھ اور بھی۔“ [صحيح البخاري، الزكاة، حديث: 1468، وصحيح مسلم، الزكاة، حديث: 983]
علمائے کرام نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ ان سے دو سال کی پیشگی زکاۃ وصول کر لی گئی ہے، دو سال کی زکاۃ ان سے طلب نہ کی جائے۔ علاوہ ازیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دو سال کی پیشگی زکاۃ لینے کی متعدد روایات آتی ہیں جنہیں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے، لیکن ان میں سے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ ضعف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اس کے مجموعی طرق سے کم از کم اس واقعہ کی اصلیت کا اثبات ہوتا ہے۔ «والله اعلم»
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتح الباري: 4203]
«قَبُلَ اَّنَ تُخِلَّ» مقررہ وقت آنے سے پہلے۔ «حلول» سے ماخوذ ہے، باب «ضَرَبَ يَضْرِبُ» ہے، یعنی سائل نے پوچھا کہ کیا زکاۃ، سال گزرے اور وقت مقررہ آنے سے پہلے ادا کر سکتی ہے یا نہیں؟
فوائد و مسائل:
زکاۃ اگرچہ اپنے وقت پر، یعنی سال گزرنے کے بعد ہی واجب ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شدید ضرورت ہو تو اصحاب حیثیت لوگوں سے پیشگی زکاۃ بھی لی جا سکتی ہے، اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد دو سال ہے، یعنی دو سال کی پیشگی زکاۃ لی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں کیونکہ جس واقعے سے پیشگی زکاۃ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر دو سال کی زکاۃ پیشگی وصول فرما لی تھی۔ اس کی طرف اشارہ صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب احادیث کی روایات سے ملتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بابت فرمایا: ”ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اس کی مثل اس کے ساتھ اور بھی۔“ [صحيح البخاري، الزكاة، حديث: 1468، وصحيح مسلم، الزكاة، حديث: 983]
علمائے کرام نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ ان سے دو سال کی پیشگی زکاۃ وصول کر لی گئی ہے، دو سال کی زکاۃ ان سے طلب نہ کی جائے۔ علاوہ ازیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دو سال کی پیشگی زکاۃ لینے کی متعدد روایات آتی ہیں جنہیں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے، لیکن ان میں سے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ ضعف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اس کے مجموعی طرق سے کم از کم اس واقعہ کی اصلیت کا اثبات ہوتا ہے۔ «والله اعلم»
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتح الباري: 4203]
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 493]
حجية بن عدي الكندي ← علي بن أبي طالب الهاشمي