🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : ما جاء في عمال الصدقة
باب: زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ ، اسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ، قِيلَ لَهُ، أَيْنَ الْمَالُ؟، قَالَ: وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي، أَخَذْنَاهُ مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعْنَاهُ حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهُ.
عمران رضی اللہ عنہ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1811]
حضرت ابراہیم بن عطاء اپنے والد عطاء بن ابو میمونہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے پر مقرر کیا گیا۔ جب وہ (اپنے فرائض انجام دینے کے بعد) واپس (مدینہ) آئے تو انہیں کہا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے وہیں سے وصول کیا جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وصول کیا کرتے تھے، اور وہیں دے دیا جہاں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) دیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الزکاة 22 (1625)، (تحفة الأشراف: 10834) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کر کے آپ کے پاس لانا ضروری نہ تھا، بلکہ زکاۃ جن لوگوں سے لی جائے انہی کے فقراء و مساکین میں بانٹ دینا بہتر ہے، البتہ اگر دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند اور محتاج ہوں تو ان کو دینا چاہئے، پس میں نے سنت کے موافق جن لوگوں سے زکاۃ لینی چاہی تھی، ان سے لی اور وہیں فقیروں اور محتاجوں کو بانٹ دی، آپ کے پاس کیا لاتا؟ کیا آپ نے مجھ کو مال کے یہاں اپنے پاس لانے پر مقرر کیا تھا؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥عطاء بن أبي ميمونة البصري، أبو معاذ
Newعطاء بن أبي ميمونة البصري ← عمران بن حصين الأزدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إبراهيم بن عطاء البصري
Newإبراهيم بن عطاء البصري ← عطاء بن أبي ميمونة البصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سهل بن حماد العنقزي، أبو عتاب
Newسهل بن حماد العنقزي ← إبراهيم بن عطاء البصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عباد بن الوليد المؤدب، أبو بدر
Newعباد بن الوليد المؤدب ← سهل بن حماد العنقزي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1625
بعث عمران بن حصين على الصدقة فلما رجع قال لعمران أين المال قال وللمال أرسلتني أخذناها من حيث كنا نأخذها على عهد رسول الله ووضعناها حيث كنا نضعها على عهد رسول الله
سنن ابن ماجه
1811
استعمل على الصدقة فلما رجع قيل له أين المال قال وللمال أرسلتني أخذناه من حيث كنا نأخذه على عهد رسول الله ووضعناه حيث كنا نضعه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1811 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1811
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عمران بن حصین مشہور صحابی ہیں جو غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے۔
حضرت عمر نے انہیں بصرہ بھیج دیا تھا تاکہ لوگوں کو دین کی تعلیم دیں۔
حضرت عمران بن حصین کی یہ بات چیت حضرت عمر سے ہوئی، وہ انہی کے حکم سے بصرہ گئے تھے۔
زکاۃ کے زیادہ مستحق اس علاقے کے غریب لوگ ہیں جہاں سے زکاۃ وصول کی گئی۔
صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور سنت پر سختی سے عمل کرتے تھے۔
حضرت عمران کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ خدمت رسول اللہ کی حیات مبارکہ میں بھی انجام دی تھی۔
حضرت عمران نے یہ خدمت زمانہ نبوی سے زمانہ فاروقی تک مسلسل انجام دی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص صحیح طور پر فرائض انجام دے رہا ہو تو بلاوجہ اس کا تبادلہ نہیں کرنا چاہیے البتہ کوئی معقول وجہ موجود ہو تو تبادلہ کرنے میں حرج بھی نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1811]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1625
زکاۃ ایک شہر سے دوسرے شہر میں لے جانا کیسا ہے؟
عطا کہتے ہیں زیاد یا کسی اور امیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا، جب وہ لوٹ کر آئے تو اس نے عمران سے پوچھا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے مجھے مال لانے بھیجا تھا؟ ہم نے اسے لیا جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لیتے تھے، اور اس کو صرف کر دیا جہاں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں صرف کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1625]
1625. اردو حاشیہ: اصل بنیادی قاعدہ زکواۃ کے بارے میں یہی ہے کہ جس شہر سے لی جائے وہیں کے حاجت مندوں میں تقسیم کردی جائے۔ہاں دوسرے شہر میں اگر زیادہ ضرورت مند ہوں تو اسے منتقل کرنا جائز ہے۔جیسے کے دور نبوت میں اطراف واکناف سے زکواۃ جمع ہوتی اور مرکز مدینہ میں لائی جاتی۔اور اہل مدینہ کو بھی دی جاتی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1625]

Sunan Ibn Majah Hadith 1811 in Urdu