سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ : صَدَقَةِ الزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ
باب: غلوں اور پھلوں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1818
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ، وَمَا سُقِيَ بَعْلًا الْعُشْرَ، وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ"، قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: الْبَعْلُ، وَالْعَثَرِيُّ، وَالْعَذْيُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ، وَالْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ لِلسَّحَابِ، وَلِلمَطَرِ خَاصَّةً لَيْسَ يُصِيبُهُ إِلَّا مَاءُ الْمَطَرِ، وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ، فَلَا يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْيِ الْخَمْسَ سِنِينَ، وَالسِّتَّ يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْيِ فَهَذَا الْبَعْلُ، وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ، وَالْغَيْلُ سَيْلٌ دُونَ سَيْلٍ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ جو پیداوار بارش کے پانی سے ہو اور جو زمین کی تری سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو چرخی کے پانی سے ہو اس میں بیسواں حصہ لوں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: «بعل»، «عثری» اور «عذی» وہ زراعت (کھیتی) ہے جو بارش کے پانی سے سیراب کی جائے، اور «عثری» اس زراعت کو کہتے ہیں: جو خاص بارش کے پانی سے ہی بوئی جائے اور دوسرا پانی اسے نہ پہنچے، اور «بعل» وہ انگور ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر پانی تک چلی گئی ہوں اور اوپر سے پانچ چھ سال تک پانی دینے کی حاجت نہ ہو، بغیر سینچائی کے کام چل جائے، اور «سیل» کہتے ہیں وادی کے بہتے پانی کو، اور «غیل» کہتے ہیں چھوٹے «سیل» کو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1818]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں بارش سے سیراب ہونے والی (شرعی پیداوار) سے اور نمی سے سیراب ہونے والی (پیداوار) سے دسواں حصہ وصول کروں اور جسے آلات کے ذریعے سے (کنویں وغیرہ سے) نکال کر پانی دیا جائے، اس میں سے بیسواں حصہ وصول کروں۔“ امام یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ نے فرمایا: ” «بَعْلٌ»، «عُشْرِيٌّ» اور «عَذْيٌ»، ان الفاظ کا مطلب بارش سے سیراب ہونے والی (زمین یا فصل) ہے۔ خاص طور پر «عُشْرِيٌّ» اس فصل کو کہتے ہیں جو صرف بادل اور بارش سے سیراب ہو، اسے بارش کے علاوہ کوئی پانی نہ ملے، اور «بَعْلٌ» انگور کی ان بیلوں کو کہتے ہیں جن کی جڑیں سطح زمین کے نیچے پانی تک جا پہنچیں، انہیں پانی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، انہیں پانچ چھ سال تک بھی پانی نہ دیا جائے تو برداشت کر لیتی ہیں تو یہ چیز «بَعْلٌ» کہلاتی ہے۔ «سَيْلٌ» (سیلاب) وادی میں بہہ کر آنے والے پانی کو کہتے ہیں اور «غَيْلٌ» (ادنیٰ سیلاب) بھی سیلاب ہی ہوتا ہے لیکن وہ «سَيْلٌ» سے کم ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11364)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 25 (2492)، مسند احمد (5/233)، سنن الدارمی/الزکاة 29 (1709) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «سیل» اور «غیل» دونوں کو اسی لئے بیان کیا کہ بعض روایتوں میں «غیل» کی جگہ «سیل» ہے، مطلب یہ ہے کہ جو زراعت «سیل» (سیلاب) کے پانی سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ لازم ہو گا کیونکہ وہ بارش والے پانی کی زراعت کے مثل ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1818
| مما سقت السماء وما سقي بعلا العشر ما سقي بالدوالي نصف العشر |
سنن النسائى الصغرى |
2492
| آخذ مما سقت السماء العشر فيما سقي بالدوالي نصف العشر |
Sunan Ibn Majah Hadith 1818 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← معاذ بن جبل الأنصاري