سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : النهي أن يخرج في الصدقة شر ماله
باب: زکاۃ میں خراب مال نکالنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1822
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فِي قَوْلِهِ سُبْحَانَهُ" وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267، قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ، كَانَتْ الْأَنْصَارُ تُخْرِجُ إِذَا كَانَ جِدَادُ النَّخْلِ مِنْ حِيطَانِهَا أَقْنَاءَ الْبُسْرِ، فَيُعَلِّقُونَهُ عَلَى حَبْلٍ بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، فَيَعْمِدُ أَحَدُهُمْ فَيُدْخِلُ قِنْوًا فِيهِ الْحَشَفُ، يَظُنُّ أَنَّهُ جَائِزٌ فِي كَثْرَةِ مَا يُوضَعُ مِنَ الْأَقْنَاءِ، فَنَزَلَ فِيمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267، يَقُولُ: لَا تَعْمِدُوا لِلْحَشَفِ مِنْهُ تُنْفِقُونَ، وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ، يَقُولُ: لَوْ أُهْدِيَ لَكُمْ مَا قَبِلْتُمُوهُ إِلَّا عَلَى اسْتِحْيَاءٍ مِنْ صَاحِبِهِ غَيْظًا، أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَا لَمْ يَكُنْ لَكُمْ فِيهِ حَاجَةٌ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَاتِكُمْ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ: «ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» (سورة التوبة: 267) انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے (صدقے کے طور پر) نکالتے، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کر دیتا، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ”قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو“ اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1822]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ﴾ [سورة البقرة: 267] ”اور جو چیزیں ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں، ان میں سے (اللہ کی راہ میں خرچ کرو) اور نکمی چیزیں خرچ کرنے کا قصد نہ کرو۔“ انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ انصار کی عادت تھی کہ جب کھجور کے درختوں کا پھل اتارا جاتا تو وہ اپنے باغوں سے کھجوروں کے چند خوشے (صدقے کے طور پر) نکالتے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی پر لٹکا دیتے۔ نادار مہاجر ان میں سے (حسب ضرورت) کھا لیتے۔ (بعض اوقات) کوئی آدمی ان میں نکمی کھجوروں کا خوشہ بھی شامل کر دیتا اور یہ خیال کرتا کہ اتنے بہت سے رکھے جانے والے خوشوں میں اس کا یہ خوشہ دینے سے بھی گزارہ ہو جائے گا۔“ جن افراد نے ایسا کیا تھا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ﴾ [سورة البقرة: 267] ”نکمی چیز کا قصد نہ کرو کہ اس میں سے تم خرچ کرتے ہو۔“ یعنی نکمی کھجوریں دینے کا قصد نہ کرو۔ ﴿وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [سورة البقرة: 267] ”اور تم خود انہیں نہیں لیتے سوائے اس کے کہ چشم پوشی کر لو۔“ یعنی اگر وہ کھجوریں تمہیں تحفے کے طور پر دی جائیں تو تم انہیں قبول نہیں کرو گے سوائے اس کے کہ دینے والے کی شرم سے قبول کر لو۔ تمہیں یہ ناراضی محسوس ہو گی کہ اس نے تمہیں (تحفہ میں) وہ چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں۔ (اس لیے) تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1798، ومصباح الزجاجة: 648)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 3 (2987) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1822 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1822
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب باغ میں پھل اترے تو اس میں سے کچھ نہ کچھ غریبوں کو بھی دینا چاہیے۔
(2)
صدقے کے طور پر حتی الامکان اچھی چیز دینی چاہیے۔
(3)
اللہ تعالیٰ نیتوں سے باخبر ہے اس لیے نیکی کو بہتر انداز سے انجام دینا چاہیے۔
(4)
صدقات و خیرات کی اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں یہ تو اس کا احسان ہے کہ ہم اپنے دوستوں اور اقارب کو دیتے ہیں اور اللہ اسے اپنے لیے شمار کر کے اس پر بہت زیادہ ثواب دے دیتا ہے۔
(5)
ثواب حاصل کرنا بندے کی ضرورت ہے، لہٰذا اللہ کو راضی کرنے کے لیے خلوص سے اچھا عمل کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جب باغ میں پھل اترے تو اس میں سے کچھ نہ کچھ غریبوں کو بھی دینا چاہیے۔
(2)
صدقے کے طور پر حتی الامکان اچھی چیز دینی چاہیے۔
(3)
اللہ تعالیٰ نیتوں سے باخبر ہے اس لیے نیکی کو بہتر انداز سے انجام دینا چاہیے۔
(4)
صدقات و خیرات کی اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں یہ تو اس کا احسان ہے کہ ہم اپنے دوستوں اور اقارب کو دیتے ہیں اور اللہ اسے اپنے لیے شمار کر کے اس پر بہت زیادہ ثواب دے دیتا ہے۔
(5)
ثواب حاصل کرنا بندے کی ضرورت ہے، لہٰذا اللہ کو راضی کرنے کے لیے خلوص سے اچھا عمل کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1822]
Sunan Ibn Majah Hadith 1822 in Urdu
عدي بن ثابت الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري