یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : زكاة العسل
باب: شہد کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1823
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيُّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي نَحْلًا، قَالَ:" أَدِّ الْعُشْرَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِهَا لِي،" فَحَمَاهَا لِي".
ابوسیارہ متقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئیے، چنانچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کر دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1823]
حضرت ابوسیارہ متعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دسواں حصہ (زکاۃ) ادا کرو۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انہیں میرے لیے خاص کر دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے لیے خاص کر دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12055، ومصباح الزجاجة: 649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/236) (حسن)» (سند میں سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہے، سلیمان کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہے، موت سے کچھ پہلے مختلط ہو گئے تھے، لیکن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، کماسیأتی)
وضاحت: ۱؎: یعنی بطور حفاظت و نگرانی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاگیر میں دے دی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف لانقطاعه
و قال البخاري في ھذا الحديث: ’’ ھو حديث مرسل،سليمان (بن موسي) لم يدرك أحدًا من أصحاب النبي ﷺ ‘‘ (علل الترمذي الكبير 1/ 313 باب في زكوة العسل)
و الحديث الآتي (الأصل: 1824،وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445
إسناده ضعيف لانقطاعه
و قال البخاري في ھذا الحديث: ’’ ھو حديث مرسل،سليمان (بن موسي) لم يدرك أحدًا من أصحاب النبي ﷺ ‘‘ (علل الترمذي الكبير 1/ 313 باب في زكوة العسل)
و الحديث الآتي (الأصل: 1824،وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عامر بن هلال المتعي، أبو سيارة | صحابي | |
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو الربيع، أبو أيوب، أبو هاشم سليمان بن موسى القرشي ← عامر بن هلال المتعي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سعيد بن عبد العزيز التنوخي، أبو محمد، أبو عبد العزيز سعيد بن عبد العزيز التنوخي ← سليمان بن موسى القرشي | ثقة إمام لكنه اختلط في آخر عمره | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سعيد بن عبد العزيز التنوخي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن علي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1823
| لي نحلا قال أد العشر احمها لي فحماها لي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1823 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1823
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صحابی کے پاس شہد کی مکھیاں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بعض درختوں پر مکھیاں شہد کا چھتہ لگایا کرتی ہیں۔
خاص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان چھتوں کو ان کی ملکیت قرار دے دیا تاکہ کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر ان درختوں کے چھتوں سے شہد نہ نکالے۔
جو درخت کسی کی ملکیت نہ ہوں، ان پر لگے ہوئے چھتے سے جو شخص چاہے شہد نکال سکتا ہے۔
شہد کی زکاۃ دسواں حصہ ہے۔
اگر دس مشکیزے شہد ہو تو ایک مشکیزہ زکاۃ ادا کرے۔
فوائد و مسائل:
(1)
صحابی کے پاس شہد کی مکھیاں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بعض درختوں پر مکھیاں شہد کا چھتہ لگایا کرتی ہیں۔
خاص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان چھتوں کو ان کی ملکیت قرار دے دیا تاکہ کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر ان درختوں کے چھتوں سے شہد نہ نکالے۔
جو درخت کسی کی ملکیت نہ ہوں، ان پر لگے ہوئے چھتے سے جو شخص چاہے شہد نکال سکتا ہے۔
شہد کی زکاۃ دسواں حصہ ہے۔
اگر دس مشکیزے شہد ہو تو ایک مشکیزہ زکاۃ ادا کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1823]
Sunan Ibn Majah Hadith 1823 in Urdu
سليمان بن موسى القرشي ← عامر بن هلال المتعي