یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : النهي أن يخرج في الصدقة شر ماله
باب: زکاۃ میں خراب مال نکالنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1821
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ أَقْنَاءَ، أَوْ قِنْوًا، وَبِيَدِهِ عَصًا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِذَلِكَ، يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، وَيَقُولُ:" لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے، اور فرماتے: ”اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1821]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے مسجد میں) تشریف لائے (تو دیکھا کہ) کسی آدمی نے (کھجور کے) خوشے یا ایک خوشہ (مسجد میں) لٹکا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ اس خوشے کو کھٹ کھٹ چھڑی مارنے لگے اور آپ فرما رہے تھے: ”اس صدقے والا چاہتا تو اس سے بہتر صدقہ دے سکتا تھا۔ اس صدقے کا مالک قیامت کے دن نکمی کھجوریں ہی کھائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 16 (1608)، سنن النسائی/الزکاة 27 (2495)، (تحفة الأشراف: 10914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/23، 28) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جیسا دیا ویسا پائے گا، اللہ تعالی غنی و بے پرواہ ہے، اس کے نام پر تو بہت عمدہ مال دینا چاہئے، وہ نیت کو دیکھتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2495
| لو شاء رب هذه الصدقة تصدق بأطيب من هذا إن رب هذه الصدقة يأكل حشفا يوم القيامة |
سنن أبي داود |
1608
| لو شاء رب هذه الصدقة تصدق بأطيب منها وقال إن رب هذه الصدقة يأكل الحشف يوم القيامة |
سنن ابن ماجه |
1821
| لو شاء رب هذه الصدقة تصدق بأطيب منها إن رب هذه الصدقة يأكل الحشف يوم القيامة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1821 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1821
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد نبوی میں دوستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی تھی لوگ کجھور کے خوشے اس سے لٹکا دیتے تھے تاکہ جسے ضرورت ہو وہ حسب خواہش کھا لے جیسے کہ اگلی حدیث میں صراحت ہے۔
صدقے کا مال کسی مستحق کے ہاتھ میں دینا ضروری نہیں۔
اگر اس انداز سے کہیں رکھ دیا جائے جس سے معلوم ہو کہ اس کے استعمال کی ہر ایک کو اجازت ہے تو یہ بھی کافی ہے۔
کھانے پینے کی چیز کو نیچے رکھنے کے بجائے اس انداز سے رکھنا بہتر ہے کہ مٹی اور گرد وغیرہ سے ممکن حد تک محفوظ رہے۔
صدقے میں عمدہ مال دینا چاہیے تاکہ بہتر ثواب ملے۔
ادنیٰ مال صدقے میں دیا جائے تو صدقہ تو ادا ہو جاتا ہے لیکن ثواب میں کمی آ جاتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خوشوں کو چھڑی سے کھٹکھٹایا تاکہ سب لوگ متوجہ ہو جائیں اور توجہ سے بات سنیں۔
جس شخص کے پاس عمدہ چیز نہ ہو وہ ادنٰی چیز بھی صدقہ کرسکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد نبوی میں دوستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی تھی لوگ کجھور کے خوشے اس سے لٹکا دیتے تھے تاکہ جسے ضرورت ہو وہ حسب خواہش کھا لے جیسے کہ اگلی حدیث میں صراحت ہے۔
صدقے کا مال کسی مستحق کے ہاتھ میں دینا ضروری نہیں۔
اگر اس انداز سے کہیں رکھ دیا جائے جس سے معلوم ہو کہ اس کے استعمال کی ہر ایک کو اجازت ہے تو یہ بھی کافی ہے۔
کھانے پینے کی چیز کو نیچے رکھنے کے بجائے اس انداز سے رکھنا بہتر ہے کہ مٹی اور گرد وغیرہ سے ممکن حد تک محفوظ رہے۔
صدقے میں عمدہ مال دینا چاہیے تاکہ بہتر ثواب ملے۔
ادنیٰ مال صدقے میں دیا جائے تو صدقہ تو ادا ہو جاتا ہے لیکن ثواب میں کمی آ جاتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خوشوں کو چھڑی سے کھٹکھٹایا تاکہ سب لوگ متوجہ ہو جائیں اور توجہ سے بات سنیں۔
جس شخص کے پاس عمدہ چیز نہ ہو وہ ادنٰی چیز بھی صدقہ کرسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1821]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1608
جن پھلوں کو زکاۃ میں دینا جائز نہیں ان کا بیان۔
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: ”اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا“، پھر فرمایا: ”یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» (خراب قسم کی کھجور) کھائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1608]
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: ”اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا“، پھر فرمایا: ”یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» (خراب قسم کی کھجور) کھائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1608]
1608. اردو حاشیہ: سورہ بقرہ میں آیا ہے کہ طیب اور عمدہ مال خرچ کیا جائے۔آگے فرمایا۔ <قرآن> (وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ)(البقرۃ۔267) ردی اور بُرے مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو حالانکہ اگر تمھیں ملے تو تم نہ لو گے۔ حدیث کے آخر میں بہت بڑی تنبیہ ہے۔کہ انسان جس قسم کی چیز دے گا۔قیامت کے روز اسی قسم سے پائے گا۔اس لئے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ کی راہ میں اچھی چیز ہی دینے کی کوشش کیا کرے۔تاہم ایسا کرنا بہتر ہی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم رتبے والی چیز کا صدقہ جائز ہی نہیں۔ یا ا س کا ثواب ہی نہیں ہے۔ اللہ کی راہ میں اخلاص سے جو کچھ بھی دیا جائے وہ عنداللہ مقبول ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1608]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2495
اللہ عزوجل کے فرمان: ”اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو“ کی تفسیر۔
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی (مسجد میں پہنچے) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ۱؎ آپ اس گچھے میں (لاٹھی سے) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: ”یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2495]
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی (مسجد میں پہنچے) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ۱؎ آپ اس گچھے میں (لاٹھی سے) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: ”یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2495]
اردو حاشہ:
(1) یہ صدقہ نفل تھا کیونکہ فرض عشر تو حکومتی عمال خود وصول کرتے تھے۔
(2) ”ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔“ یعنی اسے ردی کھجوروں ہی کا ثواب ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا نہیں کیا جا سکتا۔ یا یہ کہ اسے وہاں کھانے کو ردی کھجوریں ہی ملیں۔ دوسرا مفہوم ظاہر الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔
(1) یہ صدقہ نفل تھا کیونکہ فرض عشر تو حکومتی عمال خود وصول کرتے تھے۔
(2) ”ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔“ یعنی اسے ردی کھجوروں ہی کا ثواب ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا نہیں کیا جا سکتا۔ یا یہ کہ اسے وہاں کھانے کو ردی کھجوریں ہی ملیں۔ دوسرا مفہوم ظاہر الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2495]
Sunan Ibn Majah Hadith 1821 in Urdu
كثير بن مرة الحضرمي ← عوف بن مالك الأشجعي