🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : حق المرأة على الزوج
باب: شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ الْبَارِقِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ، ثُمَّ قَالَ:" اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، إِنَّ لَكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ، فَلَا يُوَطِّئَنَّ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمُ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ، وَطَعَامِهِنَّ".
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر فرمایا: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس (جماع) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ۱؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو، سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1851]
حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ (اس دوران میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی، اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ (اس میں آپ نے کئی باتیں ارشاد فرمائیں) پھر فرمایا: عورتوں کے بارے میں خیر کی وصیت قبول کرو کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تمہیں ان پر اس کے سوا کوئی اختیار نہیں، الا یہ کہ وہ واضح بے شرمی کا کوئی کام کریں۔ اگر وہ ایسی حرکت کریں تو ان سے بستروں میں الگ ہو جاؤ، اور انہیں مارو لیکن سخت پٹائی نہ ہو۔ (اس تنبیہ کے نتیجے میں) اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگ جائیں تو ان پر (سختی کرنے کی) راہ تلاش نہ کرو۔ یقیناً تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے، اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہاری عورتوں پر تمہارا حق تو یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اسے نہ بٹھائیں جس (کے گھر میں آنے) کو تم ناپسند کرتے ہو، اور تمہارے گھر میں اس فرد کو آنے کی اجازت نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ سنو! تم پر عورتوں کا یہ حق ہے کہ ان کے لباس اور خوراک کے بارے میں ان سے اچھا سلوک کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الرضاع 11 (1163)، تفسیر 10 (3087)، (تحفة الأشراف: 10692) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی مرد کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اندر آئے، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے، پہلے عربوں میں یہ چیز معیوب نہیں تھی لیکن جب آیت حجاب نازل ہوئی تو اس سے منع کر دیا گیا۔
۲؎: «لمن تكرهون» میں غیر محرم مرد تو یقینی طور پر داخل ہیں، نیز وہ محرم مرد اور عورتیں بھی اس میں داخل ہیں جن کے آنے جانے کو شوہر پسند نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن الأحوص الجشميصحابي
👤←👥سليمان بن عمرو الجشمي
Newسليمان بن عمرو الجشمي ← عمرو بن الأحوص الجشمي
مقبول
👤←👥شبيب بن غرقدة السلمي
Newشبيب بن غرقدة السلمي ← سليمان بن عمرو الجشمي
ثقة
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← شبيب بن غرقدة السلمي
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1163
استوصوا بالنساء خيرا فإن ما هن عوان عندكم ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك إلا أن يأتين بفاحشة مبينة فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا ألا إن لكم على نسائكم حقا ولنسائكم عليكم حقا فأما حقكم على نسائكم فلا
سنن ابن ماجه
1851
استوصوا بالنساء خيرا فإن هن عندكم عوان ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك إلا أن يأتين بفاحشة مبينة فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا إن لكم من نسائكم حقا ولنسائكم عليكم حقا فأما حقكم على نسائكم فلا يوطئن فرشكم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1851 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1851
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
وصیت تاکیدی نصیحت کو کہتے ہیں جس پر عمل کرنا بہت ضروری سمجھا جاتا ہے۔
 وصیت قبول کرو کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں۔
بہت سے صحابہ کرام جو حجۃ الوداع میں حاضر تھے ان کے لیے ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی وہ آخری ملاقات ہو کیونکہ اس سے تین ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔
ان کے لیے یہ خطبہ واقعی آخری نصیحت (وصیت)
بن گیا۔

(2)
خطاب اگرچہ حجۃ الوداع میں حاضر ہونے والے صحابہ کرام سے فرمایا گیا تھا تاہم یہ حکم قیامت تک آنے والے تمام مومنوں کے لیے ہے۔

(3)
مرد کو چاہیے کہ بیوی کے اخلاق و کردار کی نگرانی کرے تاہم بلاوجہ شکوک و شبہات میں مبتلا رہنا درست نہیں جب تک کوئی واضح مشکوک صورت سامنے نہ آئے۔

(4)
واضح بے حیائی سے مراد ایسی حرکات ہیں جن پر روک ٹوک نہ کرنے سے بدکاری تک نوبت پہنچ سکتی ہے۔
زنا کا ارتکاب ہو جانے کی صورت میں دوسرے احکام ہیں جو قرآن و حدیث میں اپنے مقام پر مذکور ہیں۔

(5)
بستروں میں الگ ہونے سے مراد ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جنسی تعلقات منقطع کر لینا ہے۔
بعض علماء نے اس کی یہ صورت بیان فرمائی ہے کہ ایک ہی بستر پر ہوتے ہوئے عورت کی طرف پیٹھ کر کے لیٹ جائے تاکہ اس کا جذباتی ہیجان اسے معافی مانگنے اور اپنی اصلاح کرنے پر مجبور کر دے۔

(6)
جب محسوس ہو کہ عورت اپنی غلطی پر پشیمان ہے اور اصلاح پر آمادہ ہے تو اس سے معمول کے تعلقات قائم کر لینے چاہییں اور بار بار گزشتہ غلطیوں کا طعنہ نہیں دینا چاہیے۔

(7)
بعض اوقات صورتحال اس قدر خراب ہو جاتی ہے کہ جسمانی سزا ناگزیر ہو جاتی ہے لیکن یہ اصلاح کی کوشش کا آخری درجہ ہے جہاں تک ممکن ہو معاملات کو اس مرحلے پر نہیں پہنچنے دینا چاہیے۔

(8)
اگر جسمانی سزا ضروری محسوس ہو تو اس میں بھی نرمی کا پہلو مدنظر ہونا چاہیے یعنی صرف اس حد تک سختی کی جائے یا سزا دی جائے جو تنبیہ کے لیے ضروری ہو اس سے زیادہ نہیں کیونکہ مقصود اصلاح ہے غصہ نکالنا یا بدلہ لینا نہیں۔

(9)
مہمانوں کی تکریم ضروری ہے لیکن اگر کوئی ایسا شخص آتا ہے جسے خاوند اچھا نہیں سمجھتا تو عورت کو چاہیے کہ خاوند کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اسے اجازت دینے سےمعذرت کر لے، یا کہہ دے کہ مرد گھر میں نہیں، پھر آ جائیے گا۔
ناپسندیدہ شخص کو بستر پر نہ بٹھانے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غیر مردوں سے ناجائز تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار نہ کی جائے۔
ان سے نرم لہجے میں ہنس ہنس کر بات کرنے کے بجائے سنجیدگی سے مختصر بات کر کے فارغ کر دیا جائے۔
امام خطابی فرماتے ہیں:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اجنبی مردوں کو گپ شپ کے لیے اپنے پاس گھر میں آنے کی اجازت نہ دیں، جیسے عرب میں یہ رواج تھا اور اسے عیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔
پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد اس سے منع کر دیا گیا۔ (حاشہ سنن ابن ماجہ از محمد فواد عبدالباقی)
ہمارے ہاں دیہات میں، جہاں پردے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اب بھی یہ صورت حال موجود ہے جو شرعی طور پر ممنوع ہے۔
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کو بھی خاوند کی اجازت کے بغیر گھر میں نہ آنے دے لیکن زیادہ صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ عورت کے محرم مردوں پر پابندی لگائے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے رضاعی چچا کو گھر میں آنے کی اجازت نہیں دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وہ تمہارا چچا ہے، اسے آنے کی اجازت دو۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1948)
لباس اور خوراک کے بارے میں اچھا سلوک یہ ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اچھا لباس اور مناسب خوراک مہیا کرے لیکن ایسے لباس سے منع کرنا چاہیے جو شریعت کی تعلیمات کے مطابق نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1851]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1163
شوہر پر عورت کے حقوق کا بیان۔
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ اور (لوگوں کو) نصیحت کی اور انہیں سمجھایا۔ پھر راوی نے اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: سنو! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تم اس (ہمبستری اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے (اور جب وہ اپنا فرض ادا کرتی ہوں تو پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کا جواز کیا ہے) ہاں اگر وہ کسی کھلی ہوئی بی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1163]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
یعنی طاقت کے مطابق یہ چیزیں احسن طریقے سے مہیا کرو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1163]

Sunan Ibn Majah Hadith 1851 in Urdu