🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : حق المرأة على الزوج
باب: شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟، قَالَ:" أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ، وَأَنْ يَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، وَلَا يَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا يُقَبِّحْ، وَلَا يَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھائے تو اس کو کھلائے، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنائے، اس کے چہرے پر نہ مارے، اس کو برا بھلا نہ کہے، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/النکاح 42 (2142)، (تحفة الأشراف: 11396)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/447، 5/3) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگائے، گھر ہی میں رکھے، بطور تأدیب صرف بستر الگ کر دے، اس لئے کہ اس کو دوسرے گھر میں بھیج دینے سے اس کے پریشان اور آوارہ ہونے کا ڈر ہے، اور تعلقات بننے کی بجائے مزید بگڑنے کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيمصحابي
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي
Newحكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سويد بن حجير الباهلي، أبو قزعة
Newسويد بن حجير الباهلي ← حكيم بن معاوية البهزي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سويد بن حجير الباهلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2142
تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اكتسيت أو اكتسبت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر إلا في البيت
سنن ابن ماجه
1850
يطعمها إذا طعم وأن يكسوها إذا اكتسى ولا يضرب الوجه ولا يقبح ولا يهجر إلا في البيت
بلوغ المرام
872
تطعمها إذا أكلت ،‏‏‏‏ وتكسوها إذا اكتسيت ،‏‏‏‏ ولا تضرب الوجه ،‏‏‏‏ ولا تقبح ،‏‏‏‏ ولا تهجر إلا في البيت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1850 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1850
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
اسلام نے معاشرے کو صحیح بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے ہر فرد کے حقوق و فرائض کا تعین کر دیا ہے۔
ان کو پیش نظر رکھ کر معاشرے میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

(2)
جس طرح مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُ‌وفِ﴾ (البقرۃ، 2: 228)
اور دستور کے مطابق عورتوں کے لیے مردوں پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے لیے عورتوں پر ہیں۔
گھر میں امن و سکون قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔

(3)
عورت کی بنیادی ضروریات یعنی خوراک، لباس اور رہائش وغیرہ مہیا کرنا مرد کا فرض ہے۔

(4)
مرد کو حق حاصل ہے کہ عورت کو غلطی پر مناسب تنبیہ کرے۔

(5)
اگر معمولی تنبیہ کا اثر نہ ہو تو معمولی سی جسمانی سزا بھی دی جا سکتی ہے لیکن چہرے پر مارنا منع ہے۔

(6) (لَا یقبح)
کا ایک مفہوم یہ ہے کہ ڈانٹتے وقت نامناسب الفاظ استعمال نہ کرے، جیسے عربوں میں رواج تھا کہ وہ کہتے (قَبَّحَ اللهُ وَجْهَكَ)
اللہ تیرے چہرے کو قبیح کردے۔
یا (قَبَّحَکَ الله)
اللہ تجھے بدصورت کر دے۔
اس طرح کی گالی اور بددعا سے اجتناب کرنا چاہیے۔
دوسرامفہوم یہ ہے کہ چہرے پر نہ مارے، زور سے مارنے سے چہرے پر نشان پڑ جائے گا اور چہرہ بدصورت ہو جائے گا اس لیے فرمایا کہ اسے بدصورت نہ بنا دے۔

(7)
تنبیہ کے لیے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وقتی طور پر بول چال بند کرنا جائز ہے لیکن بیوی کو گھر سے نکال دینا یا خود گھر سے کئی دن کے لیے باہر چلے جانا مناسب نہیں۔
گھر میں دونوں کی موجودگی سے ناراضی جلد دور ہو جانے کی امید ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1850]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2142
شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ۱؎ اختیار نہ کرو۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: «ولا تقبح» کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے «قبحك الله» نہ کہو۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2142]
فوائد ومسائل:
بوقت ضرورت تادیب کی صورت میں چہرے پر مارنا منع ہے اگر بستر سے علیحدہ کرنا ہو تو گھر کے اندر ہی ہو اپنے گھر سے مت نکال دے اور زبانی توبیخ میں بھی بد دعا دینا ناجائز ہے۔
قرآن مجید نے تادیب کے آداب میں فرمایا (وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا) (النساء) اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں ابدیشہ ہو تو انہیں نصیحت کر و، بستروں سے الگ کر دو اور مار کر سزا دو اگر وہ تمہاری تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2142]