🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : صداق النساء
باب: عورتوں کے مہر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1887
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ :" لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ، وَكُنْتُ رَجُلًا عَرَبِيًّا مَوْلِدًا، مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ".
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو، اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حقدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا۔ ابوعجفاء کہتے ہیں: میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے جو لفظ «علق القربۃ» یا «عرق القربۃ» کہا: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1887]
حضرت ابوالعجفاء سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتوں کے حق مہر میں غلو نہ کرو، اگر یہ کام (بہت زیادہ حق مہر مقرر کرنا) دنیا میں عزت کا باعث ہوتا، یا اللہ کے ہاں تقویٰ (اور نیکی کا شمار) ہوتا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حق رکھتے تھے کہ ایسا کرتے۔ بارہ اوقیہ سے زیادہ نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کو حق مہر دیا اور نہ آپ کی کسی بیٹی کو ملا۔ آدمی اپنی بیوی کے لیے بہت زیادہ حق مہر مقرر کر لیتا ہے، بعد میں یہ اس کے دل میں بیوی سے نفرت کا باعث بن جاتا ہے اور وہ کہتا ہے: میں نے تیرے لیے مشکیزے کی رسی اٹھائی یا مشک کا پسینہ برداشت کیا۔ ابوالعجفاء رحمہ اللہ نے فرمایا: میں مولد عربی تھا، (اس لیے اس محاورے کو سمجھ نہیں سکا۔) معلوم نہیں «عَلَقُ الْقِرْبَةِ» (مشک کی رسی) یا «عَرَقُ الْقِرْبَةِ» (مشک کا پسینہ)، اس کا کیا مطلب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/النکاح 29 (2106)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 66 (3349)، (تحفة الأشراف: 10655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/41، 48) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اصلاً عرب کا رہنے والا نہ تھا بلکہ دوسرے ملک سے آ کر عرب میں پیدا ہوا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥نسيب بن هرم السلمي، أبو العجفاء
Newنسيب بن هرم السلمي ← عمر بن الخطاب العدوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← نسيب بن هرم السلمي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة ثبت
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← نصر بن علي الأزدي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1887 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1887
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جائز کاموں میں افراد و تفریط سے پرہیز کرتے ہوئے درمیانہ انداز اختیار کرنا چاہیے۔

(2)
بہت زیادہ حق مہر مقرر کرنا ثواب کا کام ہے، نہ عزت کا۔

(3)
طاقت سے بڑھ کر حق مہر مقرر کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔
مرد اس کی ادائیگی کے لیے محنت مشقت کرتا ہے اور ادا نہیں کر پاتا تو دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔
دل میں کہتا ہے کہ میں اس عورت کی وجہ سے مصیبت میں پھنس گیا ہوں جبکہ مناسب حق مہر آسانی سے ادا ہو جاتا ہے جس سے میاں بیوی کی باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے جو شرعاً مقصود ہے۔

(4)
مشکیزے کی رسی اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اس رقم کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرنی پڑی حتی کہ میں نے ایسے کام بھی کیے جو حقیر سمجھے جاتے ہیں۔

(5)
مشکیزے کا پسینہ بھی یہی مفہوم رکھتا ہے کہ پانی بھرنے کی مزدوری کی اور اس کام میں پسینہ بہایا، تب میرا حق مہر ادا کرسکا۔
جب اس طرح کی طعن و تشنیع تک نوبت پہنچ جائے تو ازدواجی زندگی تلخ ہو جاتی ہے اس سے بچنے کے لیے حق مہر طاقت کے مطابق ہی مقرر کرنا چاہیے۔

(6)
جب حق مہر کی یہ کیفیت ہے جس کا حکم بھی ہے اور وہ مسنون بھی ہے تو غیر شرعی رسم و رواج پورے کرنے کے لیے جو ناروا اخراجات کا بوجھ اٹھایا جاتا ہے وہ کیسے جائز ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھروں میں اکثر جگھڑے ہوتے ہیں اور طلاق تک نوبت پہنچتی ہے۔

(7)
مولد عربی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے ماں باپ خالص عرب نہ ہوں اسی طرح غیر عربی اور مخلوط النسل کو بھی مولد کہا جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1887]

Sunan Ibn Majah Hadith 1887 in Urdu