سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : الغناء والدف
باب: (شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1901
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ طَبْلٍ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ تَنَحَّى حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1901]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ انہیں ڈھول کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور (راستے سے) ایک طرف ہٹ گئے۔ (تاکہ آواز سے زیادہ دور ہو جائیں۔) انہوں نے تین بار ایسا ہی کیا۔ پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7407، ومصباح الزجاجة: 678) (صحیح)» (یہ «زمارة راع» کے لفظ سے صحیح ہے، اور اس میں «طبل» کا ذکر منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ زمارة راع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
إسناده ضعيف
ليث: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4924
| سمع ابن عمر مزمارا فوضع إصبعيه على أذنيه ونأى عن الطريق وقال لي يا نافع هل تسمع شيئا قال فقلت لا قال فرفع إصبعيه من أذنيه |
سنن ابن ماجه |
1901
| سمع صوت طبل فأدخل إصبعيه في أذنيه ثم تنحى |
المعجم الصغير للطبراني |
649
| مر براع يزمر فضرب وجه الناقة وصرفها عن الطريق ووضع أصبعيه في أذنيه وهو يقول أتسمع أتسمع حتى انقطع الصوت فقلت لا أسمع فردها إلى الطريق |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1901 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1901
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے تاہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما کا یہ عمل اور ان کا یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے کیا کرتے تھے جناب نافع کے واسطے سے صحیح اور حسن سند کے ساتھ مسند احمد، سنن ابی داؤد، ابن حبان، طبرانی صغیر اور بیہقی میں مروی ہے جسے دیگر محققین نے بھی صحیح اور حسن قرار دیا ہے لیکن ان روایات میں ڈھول کی آواز کی بجائے بانسری کی آواز کا ذکر ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الموسوعة الحدیثیة مسندالإمام أحمد: 8؍132، 133، 134، وسنن ابی داؤد، الأدب، باب کراہیة الغناء والزمر، حدیث: 4924، 4926، والطبرانی: 1؍131، وصحیح ابن حبان، حدیث: 2013، والبیہقی: 10؍222)
لہٰذا صحیح احادیث سے بھی اس بات کی تائید ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساز کی آواز سے نفرت تھی۔
(2)
گناہ والی آواز سے جس قدر ممکن ہو بچنا چاہیے۔
(3)
دف کے سوا کوئی ساز بجانا سننا جائز نہیں۔
(4)
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ دف کی اجازت سے جو لوگ ڈھول ڈھمکوں ساز و موسیقی اور ہر قسم کے راگ و رنگ کا جواز کشید کرتے ہیں وہ یکسر غلط ہے۔
دف کے علاوہ مذکورہ تمام قسمیں یکسر ناجائز اور مطلقا حرام اور شیطانی کام ہیں۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
”مسنون نکاح اور شادی بیان کی رسومات“ مولفہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے تاہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما کا یہ عمل اور ان کا یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے کیا کرتے تھے جناب نافع کے واسطے سے صحیح اور حسن سند کے ساتھ مسند احمد، سنن ابی داؤد، ابن حبان، طبرانی صغیر اور بیہقی میں مروی ہے جسے دیگر محققین نے بھی صحیح اور حسن قرار دیا ہے لیکن ان روایات میں ڈھول کی آواز کی بجائے بانسری کی آواز کا ذکر ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الموسوعة الحدیثیة مسندالإمام أحمد: 8؍132، 133، 134، وسنن ابی داؤد، الأدب، باب کراہیة الغناء والزمر، حدیث: 4924، 4926، والطبرانی: 1؍131، وصحیح ابن حبان، حدیث: 2013، والبیہقی: 10؍222)
لہٰذا صحیح احادیث سے بھی اس بات کی تائید ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساز کی آواز سے نفرت تھی۔
(2)
گناہ والی آواز سے جس قدر ممکن ہو بچنا چاہیے۔
(3)
دف کے سوا کوئی ساز بجانا سننا جائز نہیں۔
(4)
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ دف کی اجازت سے جو لوگ ڈھول ڈھمکوں ساز و موسیقی اور ہر قسم کے راگ و رنگ کا جواز کشید کرتے ہیں وہ یکسر غلط ہے۔
دف کے علاوہ مذکورہ تمام قسمیں یکسر ناجائز اور مطلقا حرام اور شیطانی کام ہیں۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
”مسنون نکاح اور شادی بیان کی رسومات“ مولفہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1901]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4924
گانے بجانے کی کراہت کا بیان۔
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4924]
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4924]
فوائد ومسائل:
امام ابو داؤد کا قول صحیح نہیں ہے، یہ روایت حسن اور بقول علامہ البانی ؒ صحیح ہے اور دیگر احادیث سے ثابت ہے کہ (لهو الحديث) سے مراد آلاتِ موسیقی ہیں، جنکی قطعاََ اجازت نہیں ہے۔
اور بالخصوص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو طبلے کی تھاپ پر بجانا ان کی انتہائی توہین ہے اور موسیقی کی تمام لغویات حرام ہیں سوائے دف کے۔
امام ابو داؤد کا قول صحیح نہیں ہے، یہ روایت حسن اور بقول علامہ البانی ؒ صحیح ہے اور دیگر احادیث سے ثابت ہے کہ (لهو الحديث) سے مراد آلاتِ موسیقی ہیں، جنکی قطعاََ اجازت نہیں ہے۔
اور بالخصوص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو طبلے کی تھاپ پر بجانا ان کی انتہائی توہین ہے اور موسیقی کی تمام لغویات حرام ہیں سوائے دف کے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4924]
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 4924
بانسری کی آواز
محمود بن خالد الدمشقی نے صحیح سند کے ساتھ امام نافع سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 326 ح 4924 و إسناده حسن و المعجم الكبير للطبراني: 1/ 13 و تحريم النرود الشطرنج و الملاهي للآجري ح 65، مسند احمد 2/ 38ح 4965، السنن الكبري للبيهقي: 1/ 222]
اس حدیث کے بارے میں علامہ ابن الوزیر الیمانی نے ”توضیح الافکار“ [ج 1 ص 150] میں لکھا ہے کہ: «صحيح على الأصح» سب سے صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 14 صفحہ 8 تا 11
محمود بن خالد الدمشقی نے صحیح سند کے ساتھ امام نافع سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 326 ح 4924 و إسناده حسن و المعجم الكبير للطبراني: 1/ 13 و تحريم النرود الشطرنج و الملاهي للآجري ح 65، مسند احمد 2/ 38ح 4965، السنن الكبري للبيهقي: 1/ 222]
اس حدیث کے بارے میں علامہ ابن الوزیر الیمانی نے ”توضیح الافکار“ [ج 1 ص 150] میں لکھا ہے کہ: «صحيح على الأصح» سب سے صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 14 صفحہ 8 تا 11
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sunan Ibn Majah Hadith 1901 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي