🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : تهنئة النكاح
باب: نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ".
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا: «بالرفاء والبنين» میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم وبارك عليهم» اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10014)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح 73 (3373)، مسند احمد (1/201، 3/ 451) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3373)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقيل بن أبي طالب الهاشمي، أبو يزيد، أبو عيسىصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عقيل بن أبي طالب الهاشمي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥أشعث بن عبد الملك الحمراني، أبو هانئ
Newأشعث بن عبد الملك الحمراني ← الحسن البصري
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← أشعث بن عبد الملك الحمراني
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن عبد الله الأنصاري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1906
تزوج امرأة من بني جشم فقالوا بالرفاء والبنين فقال لا تقولوا هكذا ولكن قولوا كما قال رسول الله اللهم بارك لهم وبارك عليهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1906 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1906
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شادی کے موقع پر دلہا اور دلہن کو مبارک باد دینا اور ان کے حق میں دعائے خیر کرنا مسنون ہے۔

(2)
مبارک باد اور دعائے خیر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ مبارک الفاظ کہے جائیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئےہیں۔

(3)
غیر اسلامی رسمیں اگرچہ بظاہر بے ضرر ہوں اور ان میں کوئی خرابی محسوس نہ ہوتی ہو پھر بھی انہیں ترک کرکے اسلامی رسمیں اختیار کرنا مناسب ہے تاکہ غیر مسلموں سے امتیاز باقی رہے، اس لیے ایسے رسم و رواج سے اجتناب انتہائی ضروری ہے جو اسلامی آداب معاشرت کے منافی ہیں یا غیر اسلامی عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1906]