سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : الوليمة
باب: ولیمہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1911
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، قالتا:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نُجَهِّزَ فَاطِمَةَ حَتَّى نُدْخِلَهَا عَلَى عَلِيٍّ، فَعَمَدْنَا إِلَى الْبَيْتِ، فَفَرَشْنَاهُ تُرَابًا لَيِّنًا مِنْ أَعْرَاضِ الْبَطْحَاءِ، ثُمَّ حَشَوْنَا مِرْفَقَتَيْنِ لِيفًا، فَنَفَشْنَاهُ بِأَيْدِينَا، ثُمَّ أَطْعَمْنَا تَمْرًا وَزَبِيبًا وَسَقَيْنَا مَاءً عَذْبًا، وَعَمَدْنَا إِلَى عُودٍ، فَعَرَضْنَاهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ لِيُلْقَى عَلَيْهِ الثَّوْبُ، وَيُعَلَّقَ عَلَيْهِ السِّقَاءُ، فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا أَحْسَنَ مِنْ عُرْسِ فَاطِمَةَ".
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، چنانچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جا سکے، اور مشکیزے لٹکائے جا سکیں چنانچہ ہم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1911]
اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان دونوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں تاکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں رخصت کریں۔“ ہم نے گھر کی طرف توجہ کی اور اس میں بطحاء کے میدان کی نرم مٹی بچھا دی (اس طرح کمرے کے ناہموار فرش میں جو کنکر پتھر تھے، چھپ گئے)، پھر ہم نے دو تکیوں میں کھجور کے درخت کا چھلکا بھرا جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے دھنا تھا، پھر ہم نے کھانے کو کھجوریں اور کشمش پیش کیں اور پینے کو میٹھا پانی پیش کیا، اور ہم نے ایک لکڑی لے کر کمرے کے ایک کونے میں لگا دی تاکہ اس پر مشکیزے اور کپڑے لٹکائے جا سکیں، ہم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے اچھی کوئی شادی نہیں دیکھی۔” [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17631، 18212، ومصباح الزجاجة: 680) (ضعیف)» (سند میں مفضل بن عبد اللہ اور جابر جعفی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
والمفضل بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 6855)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
والمفضل بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 6855)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1911
| نجهز فاطمة حتى ندخلها على علي فعمدنا إلى البيت ففرشناه ترابا لينا من أعراض البطحاء ثم حشونا مرفقتين ليفا فنفشناه بأيدينا ثم أطعمنا تمرا وزبيبا وسقينا ماء عذبا وعمدنا إلى عود فعرضناه في جانب البيت ليلقى عليه الثوب ويعلق عليه السقاء فما رأينا عرسا أحسن |
Sunan Ibn Majah Hadith 1911 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← أم سلمة زوج النبي