سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: الْوَلِيمَةِ
باب: ولیمہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِ?ُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا، أَوْ مَهْ؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: ”یہ کیا ہے“؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بارك الله لك أولم ولو بشاة» ”اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1907]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے لباس) پر زردی کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایک گھٹلی بھر سونے (حق مہر) پر ایک خاتون سے نکاح کر لیا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 1 (2049)، مناقب الأنصار3 (3781)، 50 (3937)، النکاح 7 (5072)، 49 (5138)، 54 (5153)، 56 (5155)، 68 (5167)، الأدب 67 (6082)، الدعوات 53 (6383)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1427)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094)، سنن النسائی/النکاح 75 (3375)، (تحفة الأشراف: 288)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 30 (2109)، موطا امام مالک/النکاح21 (47)، مسند احمد (3/165، 190، 205)، سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2108)، النکاح 22 (2250) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: واضح رہے کہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت کو دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال صحیح نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا، ولیمہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو شوہر کی طرف سے شب زفاف کے بعد ہوتا ہے اور یہ کھانا مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1908
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1908]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی زوجہ محترمہ سے نکاح کے موقع پر ایسا (پر تکلف) ولیمہ کیا ہو جیسا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کے موقع پر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) ایک بکری ذبح فرمائی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 68 (5168)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1428)، سنن ابی داود/الأطعمة 2 (3743)، (تحفة الأشراف: 287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/227) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، وَغِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1909]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستوؤں اور کھجوروں سے کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1909]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 2 (3744)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1095)، (تحفة الأشراف: 1482)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، الجہاد 43 (1365)، سنن النسائی/النکاح 79 (3384) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا لَحْمٌ، وَلَا خُبْزٌ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1910]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمے میں حاضر ہوا۔ اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی۔“ (صرف ستو اور کھجوریں وغیرہ پیش کی گئیں۔) امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو صرف ابن عیینہ ہی بیان کرتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1105)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 61 (5159)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، مسند احمد (3/99) (صحیح)» (اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، «کمافی التخریج» )
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (3/ 655،266) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (3/ 655،266) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
حدیث نمبر: 1911
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، قالتا:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نُجَهِّزَ فَاطِمَةَ حَتَّى نُدْخِلَهَا عَلَى عَلِيٍّ، فَعَمَدْنَا إِلَى الْبَيْتِ، فَفَرَشْنَاهُ تُرَابًا لَيِّنًا مِنْ أَعْرَاضِ الْبَطْحَاءِ، ثُمَّ حَشَوْنَا مِرْفَقَتَيْنِ لِيفًا، فَنَفَشْنَاهُ بِأَيْدِينَا، ثُمَّ أَطْعَمْنَا تَمْرًا وَزَبِيبًا وَسَقَيْنَا مَاءً عَذْبًا، وَعَمَدْنَا إِلَى عُودٍ، فَعَرَضْنَاهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ لِيُلْقَى عَلَيْهِ الثَّوْبُ، وَيُعَلَّقَ عَلَيْهِ السِّقَاءُ، فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا أَحْسَنَ مِنْ عُرْسِ فَاطِمَةَ".
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، چنانچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جا سکے، اور مشکیزے لٹکائے جا سکیں چنانچہ ہم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1911]
اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان دونوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں تاکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں رخصت کریں۔“ ہم نے گھر کی طرف توجہ کی اور اس میں بطحاء کے میدان کی نرم مٹی بچھا دی (اس طرح کمرے کے ناہموار فرش میں جو کنکر پتھر تھے، چھپ گئے)، پھر ہم نے دو تکیوں میں کھجور کے درخت کا چھلکا بھرا جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے دھنا تھا، پھر ہم نے کھانے کو کھجوریں اور کشمش پیش کیں اور پینے کو میٹھا پانی پیش کیا، اور ہم نے ایک لکڑی لے کر کمرے کے ایک کونے میں لگا دی تاکہ اس پر مشکیزے اور کپڑے لٹکائے جا سکیں، ہم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے اچھی کوئی شادی نہیں دیکھی۔” [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17631، 18212، ومصباح الزجاجة: 680) (ضعیف)» (سند میں مفضل بن عبد اللہ اور جابر جعفی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
والمفضل بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 6855)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
والمفضل بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 6855)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُرْسِهِ، فَكَانَتْ خَادِمَهُمُ الْعَرُوسُ، قَالَتْ:" تَدْرِي مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: أَنْقَعْتُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ صَفَّيْتُهُنَّ فَأَسْقَيْتُهُنَّ إِيَّاهُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1912]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابواسید (عبداللہ بن ثابت) ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنی شادی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ دلہن خود ان کی خدمت کر رہی تھی۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کیا مشروب پیش کیا؟ میں نے رات کو کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دیں۔ صبح کو میں نے انہیں صاف کیا اور یہی مشروب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نوش فرمانے کے لیے پیش کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 71 (5176، 5177)، صحیح مسلم/الاشربة 27 (2006)، (تحفة الأشراف: 4709) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم