🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب : النهي عن نكاح المتعة
باب: نکاح متعہ منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ حَرَّمَهَا، وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10576، ومصباح الزجاجة: 695) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن حفص القرشي، أبو بكر
Newعبد الله بن حفص القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥أبان بن عبد الله البجلي
Newأبان بن عبد الله البجلي ← عبد الله بن حفص القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← أبان بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥محمد بن خلف العسقلاني، أبو نصر
Newمحمد بن خلف العسقلاني ← محمد بن يوسف الفريابي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1963
أذن لنا في المتعة ثلاثا ثم حرمها والله لا أعلم أحدا تمتع وهو محصن إلا رجمته بالحجارة إلا أن يأتيني بأربعة يشهدون أن رسول الله أحلها بعد إذ حرمها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1963 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1963
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عمر ؓ نے اس بات کا انکار نہیں فرمایا کہ ایک وقت متعہ جائز رہا ہے بلکہ یہ واضح فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فیصلہ متعہ حرام ہونے کا ہے۔

(2)
اگر عالم کو یقین ہو جائے کہ کسی مسئلہ میں اس کا موقف غلط تھا تو اسے رجوع کر لینا چاہیے۔

(3)
حضرت عمر ؓ کے سامنے کسی نے اس بات کی گواہی نہیں دی کہ آخری حکم جواز کا ہے۔
گویا صحابہ کا بالاتفاق یہ موقف تھا کہ متعہ جائز نہیں۔
اس کے بعد کسی ایک صحابی کا قول قابل عمل نہیں رہتا۔

(4)
جاہلیت میں جو نکاح جائز سمجھے جاتے تھے اور اسلام میں حرام ہو گئے ان نکاحوں کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔
اب اگر کوئی شخص اس قسم کا نکا ح کرتا ہے تو اسے نکاح نہیں بلکہ بدکاری قرار دیا جائے گا اور اسے مجرم قرار دے کر حد لگائی جائے گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1963]