Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : القسمة بين النساء
باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/النکاح 39 (2133)، سنن الترمذی/النکاح 41 (1141)، سنن النسائی/عشرةالنساء 2 (3394)، (تحفة الأشراف: 12213)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/347، 471)، سنن الدارمی/النکاح 24 (2252) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف سنن أبي داود (2133) ترمذي (1141) نسائي (3394)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥بشير بن نهيك السدوسي، أبو الشعثاء
Newبشير بن نهيك السدوسي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥النضر بن أنس الأنصاري، أبو مالك
Newالنضر بن أنس الأنصاري ← بشير بن نهيك السدوسي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← النضر بن أنس الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3394
من كان له امرأتان يميل لإحداهما على الأخرى جاء يوم القيامة أحد شقيه مائل
جامع الترمذي
1141
إذا كان عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط
سنن أبي داود
2133
من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل
سنن ابن ماجه
1969
من كانت له امرأتان يميل مع إحداهما على الأخرى جاء يوم القيامة وأحد شقيه ساقط
بلوغ المرام
906
من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1969 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1969
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نےاسےصحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 13/ 320، 321، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 1969)
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔

(2)
اگر کسی کی دو یا زیادہ بیویاں ہوں تو ممکن ہے قلبی میلان ایک کی طرف زیادہ ہو، لیکن یہ ناانصافی کا باعث نہیں بننی چاہیے۔

(3)
مباشرت کرنےمیں میلان اور خواہش کے مطابق کمی بیشی ہو سکتی ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ ایک کی صنفی ضرورت سےچشم پوشی کر لی جائے۔
اللہ کا ارشاد ہے، ﴿فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُ‌وهَا كَالْمُعَلَّقَةِ﴾ (النساء: 129)
ایک کی طرف پوری طرح نہ جھک جاؤکہ دوسری کو (درمیان)
میں لٹکتی ہوئی کی طرح چھوڑ دو (4)
دنیا کے اعمال کا نتیجہ قیامت میں بھی ظاہر ہوگا اور انہی اعمال کے مطابق جنت اور جہنم کے درجات میں بھی فرق ہوگا۔
انہی کےمطابق جنت کی نعمتیں اور جہنم کی سزائیں ہونگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1969]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 906
بیویوں میں باری کی تقسیم کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور خاوند کا میلان ایک کی طرف رہا تو قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 906»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في القسم بين النساء، حديث:2133، والترمذي،النكاح، حديث:1141، والنسائي، عشرة النساء، حديث:3394، وابن ماجه، النكاح، حديث:1969، وأحمد:2 /347، 471، قتادة ملدس وعنعن.»
تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے اور اس پر تفصیلی بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۳ /۳۲۰‘ ۳۲۱‘ وسنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد‘ حدیث:۱۹۶۹)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 906]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3394
شوہر کا میلان کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہونے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کے مقابلے دوسری طرف زیادہ میلان رکھے تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3394]
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف کہا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور دلائل کی رو سے انہی کی بات راجح معلوم ہوتی ہے۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کے لیے دیکھیے (الموسوعة الحدیثیة، مسند الإمام أحمد: 13،/ 320،321، وإرواء الغلیل: 7/80‘ وسنن ابن ماجه بتحقیق الدکتور بشارعواد، حدیث: 1969‘ وذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 28/ 178)
(2) اعمال کی جزا اعمال کے مشابہ ہی ہوتی ہے کیونکہ اس شخص نے دنیا میں جانبداری کا رویہ قائم رکھا‘ لہٰذا قیامت کے دن ا س کی ایک جانب مفلوج ہوگی۔ اس جھکاؤ سے مراد دلی جھکاؤ نہیں بلکہ ظاہری سلوک (مثلاً باری‘ نفقہ وغیرہ) میں جھکاؤ ہے کیونکہ دل کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ بہت سے دلی معاملات میں انسان بے بس ہوتا ہے‘ لہٰذا اس پر گرفت نہیں ہوگی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3394]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1141
سوکنوں کے درمیان باری کی تقسیم میں برابری کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1141]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے قول سے،
نہ کہ عام مقولہ کے طور پر،
جیسے کہاجاتاتھا جیسا کہ ہشام دستوائی کی روایت میں ہے۔

2؎:
اس لیے ان کی روایت مقبول ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1141]