🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : تعظيم حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم والتغليظ على من عارضه
باب: حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو تم یہی (خیال گمان) رکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 20]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10177، ومصباح الزجاجة: 8)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/122، 130)، سنن الدارمی/المقدمة 50 (612) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی حدیثوں کو صحیح محمل پر رکھو اور مناسب موقع پر فٹ کرو، اور اس میں تعارض اور تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو حدیث کا منطوق ہو اسی کو تقوی اور ہدایت جانو، اور اس کے خلاف کو مطلقاً بہتر اور ہدایت نہ سمجھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن حبيب السلمي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن حبيب السلمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن أبي عمران الطائي، أبو البختري
Newسعيد بن أبي عمران الطائي ← عبد الله بن حبيب السلمي
ثقة ثبت فيه تشيع قليل
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← سعيد بن أبي عمران الطائي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 20 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث20
اردو حاشہ:
(1)
مذکورہ دونوں حدیثوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ایسی صحیح حدیث سامنے آئے جس سے بظاہر کوئی نامناسب مفہوم سمجھ میں آتا ہو، تو اس کی تشریح ایسے انداز سے کی جانی چاہیے، جس سے وہ ظاہری قباحت باقی نہ رہے، کیونکہ بعض اوقات ایک حدیث کو ایک سے زیادہ انداز سے سمجھا جانا ممکن ہوتا ہے۔
اس صورت میں اس کا وہ مطلب صحیح ہو گا، جس کی تائید قرآن مجید اور دوسری صحیح احادیث سے ہوتی ہو۔

(2)
جس طرح قرآن مجید کی بعض آیات میں ایسے مسائل بیان کیے گئے ہیں جو عقل سے ماورا ہیں (خلاف عقل نہیں)
اسی طرح بعض اوقات کسی حدیث میں بھی ایسا مسئلہ بیان ہو سکتا ہے۔
اس صورت میں صحیح طرز عمل یہی ہے کہ حدیث پر ایمان رکھا جائے اور کہا جائے کہ اس کا مطلب کماحقہ اللہ ہی جانتا ہے۔
مثلا اللہ تعالیٰ کی صفات یا قبر اور برزخ کے حالات بیان کرنے والی احادیث۔
یہی طرزعمل سب سے بہتر اور ہدایت و تقویٰ سے قریب تر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 20]