سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ : الْمُظَاهِرُ يُجَامِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ
باب: ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ، فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ، فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَأَمَرَهُ أَلَّا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے ایسا کیوں کیا“؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بے اختیار ہو گیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2065]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے ہم بستر ہو گیا، پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! چاندنی میں میری نظر اس کی پازیبوں پر پڑی، پھر مجھے اپنے آپ پر قابو نہ رہا، اور میں اس سے مباشرت کر بیٹھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور اسے حکم دیا کہ ”کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 17 (2223)، سنن الترمذی/الطلاق 19 (1199)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3487)، (تحفة الأشراف: 6036) (حسن)» (سند میں حکم بن ابان ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2065
| ما حملك على ذلك قال يا رسول الله رأيت بياض حجليها في القمر فلم أملك نفسي أن وقعت عليها فضحك رسول الله وأمره ألا يقربها حتى يكفر |
بلوغ المرام |
934
| فلا تقربها حتى تفعل ما أمرك الله به |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2065 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2065
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ظہار کرنے والے کو کفارہ ادا کرنے تک بیوی سے الگ رہنا چاہیے۔
(2)
اگروہ غلطی سے کفارہ ادا کرنے سے پہلے مقاربت کرلے تو اسے دوکفارے ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔
ایک ہی کفارہ ادا کرے۔
اور اللہ سے معافی مانگے اور استغفار کرے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ظہار کرنے والے کو کفارہ ادا کرنے تک بیوی سے الگ رہنا چاہیے۔
(2)
اگروہ غلطی سے کفارہ ادا کرنے سے پہلے مقاربت کرلے تو اسے دوکفارے ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔
ایک ہی کفارہ ادا کرے۔
اور اللہ سے معافی مانگے اور استغفار کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2065]
Sunan Ibn Majah Hadith 2065 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي