🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : {من أوسط ما تطعمون أهليكم}
باب: کفارہ میں فقراء اور مساکین کو درمیانی درجہ کا کھانا کھلانا چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ سَعَةٌ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ شِدَّةٌ، فَنَزَلَتْ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ سورة المائدة آية 89".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری: «من أوسط ما تطعمون أهليكم» مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5518، ومصباح الزجاجة: 743) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن عينة مدلس وعنعن
ولا ينفعه كونه لا يدلس إلا عن ثقة مدلس وغير مدلسٍ كما حققته في تخريج النهاية في الفتن والملاحم (ح1030) يسر اللّٰه لنا طبعه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن أبي المغيرة العبسي، أبو عبد الله
Newسليمان بن أبي المغيرة العبسي ← سعيد بن جبير الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن أبي المغيرة العبسي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2113
كان الرجل يقوت أهله قوتا فيه سعة وكان الرجل يقوت أهله قوتا فيه شدة فنزلت من أوسط ما تطعمون أهليكم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2113 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2113
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 2113، وصحیح ابن ماجة، رقم: 1730، وسنن ابن ماجة بتحقیق محمود حسن نصار، رقم: 2113)
بہر حال کھانے کی کوئی خاص مقدار یا معیار مقرر نہیں بلکہ گھر میں عام طور پر جیسا کھانا تیار ہوتا ہے اسی معیار اور مقدار کے مطابق دس غریب آدمیوں کو کھانا کھلا دیا جائے۔
جب مہمان آئیں تو بہتر کھانا تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بعض اوقات معمول سے کم درجے کا کھانا بھی کھا لیا جاتا ہے۔
کفارے میں نہ تو مہمانوں والا پر تکلف کھانا دینا مطلوب ہے نہ بالکل ادنیٰ درجے کا جیسے گھر میں بعض اوقات اچار یا چٹنی سے بھی گزارہ کر لیا جاتا ہے۔
بلکہ ہر شخص کے اکثر ایام کے معمول کا لحاظ رکھتے ہوئے کھانا کھلایا جائے۔
واللہ أعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2113]