پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : الحث على المكاسب
باب: روزی کمانے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّاجِرُ الْأَمِينُ الصَّدُوقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچا، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2139]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیانت دار، سچا مسلمان تاجر قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7598، ومصباح الزجاجة: 755) (حسن صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 248)»
وضاحت: ۱؎: تجارت کے ساتھ سچائی اور امانت داری بہت مشکل کام ہے، اکثر تاجر جھوٹ بولتے ہیں اور سودی لین دین کرتے ہیں، تو کوئی تاجر سچا امانت دار، متقی اور پرہیزگار ہو گا تو اس کو شہیدوں کا درجہ ملے گا، اس لئے کہ جان کے بعد آدمی کو مال عزیز ہے، بلکہ بعض مال کے لئے جان گنواتے ہیں جیسے شہید نے اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کی، ایسے ہی متقی تاجر نے اللہ تعالی کی راہ میں دولت خرچ کی، اور حرام کا لالچ نہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
كلثوم بن جوشن: ضعيف(تقريب: 5655)
وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (1209)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
ضعيف
كلثوم بن جوشن: ضعيف(تقريب: 5655)
وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (1209)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2139
| التاجر الأمين الصدوق المسلم مع الشهداء يوم القيامة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2139 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2139
اردو حاشہ:
یہ حدیث جامع ترمذی میں حضرت ابو سعید ؓسے مروی ہے۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ (جامع الترمذي، البیوع، باب ماجاء عن التجار۔
۔
۔
، حدیث: 1209)
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے تاہم امانت و دیانت اور سچائی کے ساتھ تجارت کرنا بہت فضیلت والا عمل اور نہایت باعث برکت ہے۔
یہ حدیث جامع ترمذی میں حضرت ابو سعید ؓسے مروی ہے۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ (جامع الترمذي، البیوع، باب ماجاء عن التجار۔
۔
۔
، حدیث: 1209)
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے تاہم امانت و دیانت اور سچائی کے ساتھ تجارت کرنا بہت فضیلت والا عمل اور نہایت باعث برکت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2139]
Sunan Ibn Majah Hadith 2139 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي